خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 865
خطبات طاہر جلد ۱۰ 865 خطبہ جمعہ یکم نومبر ۱۹۹۱ء اعداد و شمار آپ کو بتائیں گے کہ کس طرح اللہ تعالیٰ کے فضل سے فی کس قربانی کے لحاظ سے یہ دنیا کی ہر دوسری جماعت کو نہ صرف پیچھے چھوڑ چکی ہے بلکہ بہت پیچھے چھوڑ گئے ہیں۔نئے معیار قائم کر دیئے ہیں، نئے پیمانے بنا دیئے ہیں اور ساری دنیا کے لئے ایک ایسا نمونہ بن گئی ہے جس کی پیروی کے لئے اب کھلی دعوت ہے۔صلائے عام ہے جس میں طاقت ہے جس میں توفیق ہے وہ اس چیلنج کو قبول کرے اور ان کے پیچھے پیچھے ان کی پیروی کرتے ہوئے ان سے آگے بڑھنے کی کوشش کرے۔اس لئے یہ تو میں نہیں کہتا کہ جماعت جاپان ہی ہمیشہ اول رہے مگر اس اولیت کو حاصل کرنے کے لئے جو کھلے رستے ہیں ان پر میری خواہش یہی ہے کہ ساری جماعتیں دوڑیں اور چونکہ جماعت جاپان کو اولیت عطا ہو چکی ہے اس لئے وہ اور بھی تیز دوڑے اور اس طرح یہ مقابلے جن کا ذکر قر آن کریم میں فَاسْتَبِقُوا الْخَيْراتِ (البقرہ: ۱۴۹) کی نصیحت میں ملتا ہے ہمیشہ جاری وساری رہیں اور اللہ تعالیٰ پہلوں کو بھی قبول فرمائے اور بعد میں آنے والوں کو بھی قبول فرمائے۔ہاں اب میں آپ کو بتاتا ہوں کہ زیادہ سے زیادہ چندہ دہندگان کی تعداد جس میں بچے عورتیں سب شامل ہیں۔جاپان میں صرف ۱۳۵ بنتی ہے اور تعداد کے لحاظ سے وقف جدید کو یہ اعزاز ملا کہ وقف جدید میں جاپان میں ۳۵ چندہ دہندگان شامل ہوئے اور اس پہلو سے کل تعداد کے مقابل پر جتنے چندہ دہندگان شامل ہوئے ہیں اس میں جاپان نے ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ہے ۳۲۲۳ پاؤنڈ چندہ ادا کیا جو ۷ ۸ ۲۳ پاؤند فی کس بنتا ہے جو وقف جدید کے نقطہ نگاہ سے بہت بھاری قربانی ہے کیونکہ وقف جدید میں چندوں کا معیار عموماً بہت تھوڑا ہوتا ہے۔پھر چندہ تحریک جدید میں ۱۴ ہزار ۷۵۱ ادا کیا اور کل چندہ دہندگان ۱۳۰ ہیں۔فی کس ۱۳۴۶ پاؤنڈ ادا کیا گیا ہے جو خدا کے فضل سے ایک حیرت انگیز رقم ہے۔دنیا کی کسی جماعت کو شاید اس کے نصف تک پہنچنے کی بھی توفیق نہ ملی ہو۔ایک امریکہ ہے جو نصف سے کچھ زائد ہو گیا ہے۔باقی سب جماعتیں پیچھے ہیں۔جماعت جاپان کا ۹۱-۹۰ ء کا بجٹ ۸۲۲، ۶۷ پاؤنڈ تھا اب ۷۲،۳۸۴ ہے اس پہلو سے ۷۲ پاؤنڈ فی چندہ دہندہ ادا کیا گیا ہے۔یہ صرف عام چندہ نہیں اس میں وصیت کا چندہ بھی شامل ہے۔اب آپ اس میں ۱۱۳ جمع ۲۳ وہ وقف جدید والے بھی ڈال لیں تو ہزار پاؤنڈ فی کس سے اوپر رقم بن جاتی ہے لیکن یہیں ساری کہانی ختم نہیں ہو جاتی۔گزشتہ سال اس جماعت نے یہ فیصلہ کیا کہ ہم