خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 863 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 863

خطبات طاہر جلد ۱۰ 863 خطبہ جمعہ یکم نومبر ۱۹۹۱ء قربانی کرنے والی اور آگے بڑھنے والی ہے نائیجریا ابھی اقتصادی لحاظ سے بہت پیچھے ہے۔یہ شاید کینیا سے بھی مضبوط ہو یا غالباً مضبوط تو نہیں لیکن اس کے قریب ہی ہوگا کیونکہ یہاں تیل کے ذخائر دریافت ہوئے ہیں اس لحاظ سے یہ دولت ہے ورنہ آبادی بھی بہت ہے۔کئی لحاظ سے غربت بھی ہے اس لئے میں معین نہیں کہہ سکتا کہ دونوں میں سے کون اقتصادی لحاظ سے زیادہ مضبوط ہے مگر اچھے ممالک میں سے ہے اور اس کے باوجود تحریک جدید کی مالی قربانی میں صرف ایک پاؤنڈ ۲۸ پینیس ادا کئے ہیں اور باقی ممالک تو بے چارے پھر برائے نام قربانی کرنے والے ہیں لیکن ان کی غربت کو اگر پیش نظر رکھا جائے تو ہو سکتا ہے بہت سے اعلیٰ مقام پانے والے ممالک سے بھی ان کے اخلاص کا معیار خدا کی نظر میں بلند تر شمار ہو۔اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ کس کی قربانی مقبول ہے اور کس کی نہیں۔روپوؤں میں ہم اس کو جانچنے کی کوشش کرتے ہیں، روپے کے پیمانوں میں اس کو جانچتے اور اندازے لگاتے ہیں کہ جماعت کا اخلاص کیا ہوگا لیکن نیتوں کا مضمون بہت ہی گہرا اور پھیلا ہوا اور الجھا ہوا مضمون ہے اس لئے آخری فیصلہ تو خدا کی چوکھٹ پر ہوگا۔اس چوکھٹ میں اگر یہ قربانیاں مقبول ہو جائیں اور خدا تعالیٰ ان کو قبول فرمائے اور اپنی خوشنودی کی سند عطا فرمادے تو ایک پیسہ بھی ہو تو دنیا کی سب دولتوں سے بڑھ کر ہے اس لئے آخر پر میری جماعت کو یہی نصیحت ہے کہ یہ فیصلہ جو بالآخر خدا کی قبولیت کی چوکھٹ پر ہونا ہے اس کا آغاز آپ کے دل کی چوکھٹ سے ہے۔جو قربانی اس دل کی چوکھٹ سے خلوص اور پیار اور محبت کے ساتھ نکلتی ہے اسے لازماً پر پرواز عطا ہوتے ہیں۔وہ لازماً ایسی رفعتیں پاتی ہے کہ آسمان کی بلندیوں تک پہنچے اور خدا کے حضور پایہ قبولیت میں جگہ پائے۔جو قربانی دل کی چوکھٹ سے الجھی ہوئی اور پشیمان صورت میں نکلتی ہے جس میں نیتوں میں اختلاط ہو جاتے ہیں کچھ یہ نیت کچھ وہ نیت جہاں کئی قسم کی دوسری کمزوریاں نیتوں میں جگہ پالیتی ہیں ان قربانیوں کو رفعتیں نصیب نہیں ہوا کرتیں خواہ اعداد و شمار کے لحاظ سے ہم ان کو کتنا ہی بلند مرتبہ کیوں نہ دیکھیں اس لئے آخری فیصلہ کن امر یہی ہے جس کو ہمیشہ جماعت کو پیش نظر رکھنا چاہئے کہ اپنے دل سے پھوٹتے ہوئے قربانی کے جذبوں پر نگاہ کیا کریں۔وہیں ان کی تقدیر طے ہونی ہے۔وہیں ان کی قسمت کے فیصلے لکھے جائیں گے۔اگر دل پاک صاف ہوں اور قربانی میں اللہ کی محبت اور خالص اللہ کی رضا شامل ہو تو ایسی قربانیاں اللہ تعالیٰ کے حضور ضرور قبولیت کے مقام میں جگہ پاتی ہیں۔اللہ تعالیٰ