خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 861
خطبات طاہر جلد ۱۰ 861 خطبہ جمعہ یکم نومبر ۱۹۹۱ء نے ۱۷۰۳ کا وعدہ کیا تھا اور وصولی ۷۱۰ تھی اور امسال یعنی سال جو آج ختم ہو رہا ہے ان کا وعدہ ۶۷۰۴ کا تھا اور وصولی ۶۷۶۵ ہے ان کی تعداد میں بھی خدا کے فضل سے اضافہ ہوا ہے ۴۱۵ پچھلے سال تھی اور اب ۳ ۴۵ ہو چکی ہے۔اس کے بعد میں فی کس وصولی کے متعلق بیان کرتا ہوں۔جاپان دنیا کے سب ممالک میں فی کس وصولی کے لحاظ سے آگے نکل گیا ہے۔جاپان کی جماعت نے فی چندہ دہندہ تحریک جدید ۱۳:۴۶ پاؤنڈ ادا کئے ہیں جو بہت بھاری رقم ہے اور امریکہ جاپان سے تقریبا نصف ہے پیچھے رہ گیا ۲۳ ۶۷ پاؤنڈ ز فی چندہ دہندہ تحریک جدید ادا ہوا ہے۔جرمنی خدا تعالیٰ کے فضل سے تیسرے نمبر پر ہے اور ۳۰۶۸۸ پاؤنڈ فی چندہ دہندہ ادا کیا ہے جو جاپان سے تقریباً چوتھا حصہ اور امریکہ سے تقریبا نصف ہے لیکن اس پہلو سے جرمنی کی قربانی قابل تحسین ہے کہ جرمنی کی جماعت میں بھاری اکثریت غرباء کی ہے اور ایسے بھی ہیں جو بغیر کسی کام کے ہیں اور حکومت کی طرف سے جو زندگی کی بقاء کے لئے گزارے ملتے ہیں اس پر گزارہ کر رہے ہیں اور اس پر بھی چندے دے رہے ہیں اس لئے جہاں تک جرمنی کی جماعت کا تعلق ہے ان کا ۳۰ پاؤنڈ فی کس تحریک جدید کا چندہ ادا کرنا بہت ہی عظیم الشان قربانی ہے۔اللہ تعالیٰ ان کو بہترین جزا دے اور ان کے اموال میں ، جان میں ، اخلاص میں اور بھی بہت ترقی دے جس طرح کہ باقی جماعتوں کے لئے بھی ہماری یہی دعا ہے۔U۔K کی کیفیت ۲۴، ۲۷ ہے اب یہ سوچنے والی بات ہے کہ انگلستان کی جماعت جرمنی سے پیچھے رہ جائے۔جہاں تک تعداد کا تعلق ہے چونکہ جرمنی کی جماعت تعداد میں بڑھ گئی ہے اس لئے ہم یہ سوچ سکتے ہیں کہ جرمنی کا چندہ U۔K سے بڑھ جائے لیکن فی کس قربانی کے معیار کے لحاظ سے جرمنی کی جماعت اقتصادی لحاظ سے انگلستان سے بہت پیچھے ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہاں خدا کے فضل سے ابھی قربانی کی اور بھی گنجائش موجود ہے۔کینیڈا ۲۰۰۱ ہے۔ان کی بھی کیفیت کم و بیش جرمنی والی ہی ہے کیونکہ بہت سے لوگ بے کار ہیں اور ویسے بھی اقتصادی بحران ملک میں بہت ہے لیکن اس کے باوجود جرمنی سے اتنا پیچھے رہ جانا یہ تعجب انگیز ہے۔ناروے۱۴۷۹۳ ہے ناروے خدا کے فضل سے اقتصادی لحاظ سے اچھا ملک ہے۔کافی مستحکم ملک ہے اگر چہ وہاں دوست یہ شکایت کرتے ہیں کہ بہت برا حال ہو چکا ہے لیکن اس کے باوجود جہاں تک آمد مینوں کا تعلق ہے یا حکومت کی طرف سے