خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 860 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 860

خطبات طاہر جلد ۱۰ 860 خطبہ جمعہ یکم نومبر ۱۹۹۱ء کے ان کے وعدے تھے اور وصولی ۷۵۱ ۱۴۰ کی ہے۔میں سمجھتا ہوں اس میں بھی رپورٹ کی کوئی خامی رہ گئی ہوگی ورنہ جماعت جاپان کا جیسا کہ میں نسبتا تفصیلی ذکر کروں گا اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان سے ہرگز یہ امید نہیں کہ وعدہ سے کم وصولی کرنے والے ہوں۔ہندوستان کی پوزیشن پاکستان کے بعد باہر کی جماعتوں میں آٹھویں نمبر پر ہے۔ان کے وعدے سال گزشتہ ۱۳۱ ۱۴ تھے وصولی ۱۱،۴۰۰ اور اب جو سال گزرا ہے اس میں ۵۴۴ ۱۴۰ کے وعدے تھے اور وصولی ۳۰۷ ۱۲۔ہندوستان کے حالات ایسے ہیں کہ ان میں یہ بات سمجھنے کے قابل ہے یعنی سمجھی جاسکتی ہے اور ان کو اس بات کا حق دیا جا سکتا ہے کہ یہ کسی حد تک وصولی میں پیچھے رہ جائیں کیونکہ کشمیر کی جماعتیں بہت ہی سنگین حالات میں سے گزر رہی ہیں اور ہندوستان ویسے بھی بہت پھیلا ہوا ملک ہے جس کے مقابل پر قادیان میں جماعتوں تک پہنچنے کے جو وسائل ہیں وہ سردست نسبتا کم ہیں۔انسپکٹر ان بھی کم ہیں اور لمبے سفر در پیش ہوتے ہیں۔چھوٹی چھوٹی جماعتوں کی خاطر اگر یاد دہانی کے لئے انسپکٹر بھیجے جائیں تو انسپکٹر بھجوانے کا خرچ زیادہ آتا ہے اور وہاں سے وصولی کم ہوتی ہے تو اس لحاظ سے کچھ ایسی دقتیں ہیں کہ ان کی مجبوریاں ہیں۔اس کے باوجود میں سمجھتا ہوں کہ ہندوستان اللہ تعالیٰ کے فضل سے قربانی کے میدان میں پہلے کی نسبت زیادہ آگے بڑھ رہا ہے۔جہاں تک فی کس وصولی کا تعلق ہے اس لحاظ سے خدا تعالیٰ کے فضل سے جاپان تمام دنیا کو میلوں پیچھے چھوڑ گیا ہے لیکن اس سے پہلے میں تعداد کا ذکر کر دوں۔چندہ دہندگان کی تعداد بہت اہمیت رکھتی ہے۔اس پہلو سے ہمیں تعداد پر بھی ہمیشہ نظر رکھنی چاہئے۔جرمنی میں چندہ دہندگان کی تعداد گزشتہ سال ۴۸۷۴ تھی اس سال خدا کے فضل سے ۴,۹۰۰_U۔K میں ۳۰۰۰ تھی اب جو بڑھ کر ۳۳۰۳ ہو گئی امریکہ میں ۲۲۵ ، اتھی اور اب گر کر ۱،۱۶۹ رہ گئی۔کینیڈا میں ۲۵۲ ۲ تھی جو بڑھ کر ۲٬۵۰۰ ہوئی اور انڈونیشیا میں ۲۴۵، ۷ تھی جو بڑھ کر ۶۹۱، ۹ بن گئی ماریشس میں ۹۷۴ کے مقابل پر ۳۹۵، تعداد ہوئی اور جاپان میں ۱۰ سے بڑھ کر ۱۳۰ تک تعداد پہنچ گئی ہے۔ہندوستان میں ۱۲۸۱۵ تعداد تھی اور اب بھی ۱۲٬۸۱۵ دکھائی گئی ہے جو عقلا ممکن نہیں اس لئے ان کے اعدادوشمار میں بھی درستی کی گنجائش موجود ہے۔پہلے دس میں ناروے بھی شامل ہے۔ان کے چندہ کی کیفیت یہ ہے کہ سال گزشتہ انہوں