خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 859
خطبات طاہر جلد ۱۰ 859 خطبہ جمعہ یکم نومبر ۱۹۹۱ء کارکنوں کی محنت اور نظم وضبط کے نظام کو بہتر بنانا اگر سلسلہ کے کارکن محنت سے کام کرنے والے ہوں اور نظم وضبط کے ساتھ ان کے کام کی نگرانی ہوتو بالعموم خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ دبے ہوئے اخلاص بھی چمک اٹھتے ہیں اور جماعت میں نئی زندگی پیدا ہو جاتی ہے۔اخلاص کی دو قسمیں ہیں۔ایک تو یہ ہے جو ظاہر و باہر پریشانیوں سے پھوٹتا اور قربانیوں سے ظاہر ہوتا ہے اور ایک وہ ہے جو ہر احمدی کے دل میں بیج کے طور پر موجود رہتا ہے یا دبی ہوئی لہروں کے طو پر موجود رہتا ہے۔ایسے اخلاص کو ابھارنا اور باہر لانا یہ سلسلہ کے کارکنوں کی کارکردگی پر منحصر ہے۔اگر وہ اچھے ہوئے مخلص ہوں عقل والے ہوں، حکمت کے ساتھ بجائے روپے کے مطالبے کرنے کے ان کے اخلاص کے جذبات کو ابھارنے کی کوشش کرنے والے ہوں تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس کے بہترین نتائج ظاہر ہوتے ہیں۔انڈونیشیا کا نمبر پاکستان کو چھوڑ کر باہر کی دنیا میں پانچواں ہے۔انڈونیشیا نے گزشتہ سال ۳۴ ہزار کے وعدے کئے تھے اور وصولی ۳۷ ہزار کی ہوئی امسال یعنی جو سال اب گزر چکا ہے اس میں ۴۵ ہزار ۷۸۵ کے وعدے تھے اور وصولی ۴۵ ہزار ۷۸۵ ہوئی ہے۔اس وصولی کی ممکن ہے ایک یہ بھی وجہ ہو یعنی بعینہ ہونے کی کہ بعض جماعتوں نے ابھی تک رپورٹیں نہیں بھجوائیں اور جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے شاید انڈونیشیا بھی اس میں شامل ہے۔ان کے متعلق مال کے شعبہ نے یہ طریق اختیار کیا ہے کہ گذشتہ سال کی رپورٹ کو دہرایا ہے۔یعنی وعدوں کی رپورٹ تو مل چکی ہے لیکن وصولی کی گذشتہ سال کی رپورٹ کو انہوں نے من و عن اسی طرح بیان کر دیا ہے۔جو پہلی جماعتیں تھیں جن پر میں نے تعجب کا اظہار کیا ہے ان کی رپورٹیں مل چکی ہیں اور پورٹوں میں بعینہ وہی اعداد و شمار ہیں جیسے میں نے پڑھ کر سنائے ہیں لیکن انڈونیشیا کے معاملہ میں ابھی آخری رپورٹ آنے والی ہے۔ماریشس کا نمبر چھٹا آتا ہے اور ان کا گذشتہ وعدہ ۹،۶۰۸ تھا وصولی ۷۲۴، ۹ اور امسال ۶۵۰ ،۱۶ اور وصولی ۶۵۰ ،۱۶ ہے یہ بھی تعجب انگیز ہے۔یہ معاملہ یقیناً تعجب انگیز ہے کہ اتنی بڑی تعداد میں جماعتیں ایسی ہیں جن کی وصولی بعینہ وعدوں کے مطابق ہے جب کہ خدا کے فضل سے تعداد چندہ دہندگان بہت بھاری ہے اور یہ عقلا ممکن نہیں ہے کہ بعینہ ویسی وصولی ہو۔ماریشس کا بھی یہی حال ہے ۶۵۰ ،۱۶ کے وعدے۶۵۰ ،۶ اوصولی اور جاپان کی وصولی امسال معمولی سی کم رہ گئی ہے جس کی جاپان سے بہر حال توقع نہیں ہے ۱۵،۱۵۵