خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 858
خطبات طاہر جلد ۱۰ 858 خطبہ جمعہ یکم نومبر ۱۹۹۱ء اور ایسے لوگ اگر چاہیں بھی تو پھر وعدے پورے نہیں کر سکتے تو ان کا وعدوں کو پورا کرنا ان کے اخلاص کے لئے پیمانہ نہیں ہے بلکہ کسی اور چیز کا پیمانہ ہے۔یہ ان کی بے کسی اور مجبوری کا پیمانہ ہے پس اس پہلو سے بھی یہ عقلاً ممکن ہی نہیں کہ جتنے وعدے لکھوائے گئے ہوں بعینہ اتنی وصولی ہو جائے تو جرمنی کی اس رپورٹ میں کچھ خامی رہ گئی ہے۔یہ وصولی تو یقیناً ہوئی ہے کیونکہ جہاں تک میں نے ان کے مالی نظام کو دیکھا ہے جب وہ کہتے ہیں کہ یہ وصولی ہے تو لازماًوہ اتنا روپیہ دکھاتے ہیں۔موجود ہو گا لیکن میرا خیال ہے کہ جلدی کی رپورٹ ہے اور بہت سی وصولیاں ابھی آئی نہیں ہوں گی۔اس پہلو سے میں سمجھتا ہوں کہ ان کو بھی اس معاملہ پر نظر ثانی کرنی چاہئے جیسا کہ U۔K کو بھی یعنی انگلستان کی جماعت کو بھی اپنی رپورٹ پر نظر ثانی کرنی چاہئے۔U۔K کا 90 ہزار پاؤنڈ کا وعدہ تھا اور بعینہ 9 ہزار پاؤنڈ پورا ہوا ہے اب یہ بھی عقل میں آنے والی بات نہیں ہے۔یہ ہو نہیں سکتا۔اس سے پچھلے سال U۔K کا وعدہ ۹۰ ہزار کا تھا اور وصولی اے ہزار ۰۲ ۷ تھی اس لئے یہ تعجب کی بات ہے کہ کیا واقعہ ہوا ہے۔میں امید رکھتا ہوں کہ امیر صاحب اس کی چھان بین کر کے پھر رپورٹ بھجوائیں گے۔بہر حال U۔K کی یہ خوش قسمتی ہے کہ جرمنی کے بعد یہ دوسرے نمبر پر ہیں اور تیسرے نمبر پر امریکہ ہے جس کے وعدے گذشتہ سال ۷۰ ہزار ۱۷۵ کے تھے اور وصولی بھی بعینہ ۷۰ ہزار ۱۷۵ کی تھی جو تعجب انگیز ہے اور امسال ان کے وعدے ۷۸ ہزار ۹۴۷ کے تھے اور وصولی بھی بعینہ ۷۸ ہزار ۹۴۷ ہی ہے۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہاں بھی امیر صاحب کے لئے چھان بین کرنے کی کافی گنجائش موجود ہے۔کینیڈا کا نمبر چوتھا ہے یعنی پاکستان کو چھوڑ کر اور ان کے وعدے گزشتہ سال ۵۱ ہزار ۵۹ کے تھے اور وصولی ۴۷ ہزار ۳۹۸ تھی اور امسال ان کے وعدے ۶۱ ہزار ۲۷ کے تھے۔اور وصولی ۵۰٬۰۴۲ پس کینیڈا کو خصوصیت سے توجہ کرنی چاہئے۔بڑی مخلص جماعت ہے لیکن بہت حد تک تربیت کے محتاج نوجوان بھی وہاں پہنچے ہوئے ہیں اور بعض ایسے خاندان ہیں جن کا پہلے جماعت سے کوئی ایسا خاص تعلق نہیں تھا۔کینیڈا میں جا کر ان کے اندر نئی زندگی پیدا ہوئی ہے تو وہاں کے مالی نظام کو مستحکم کرنے کی ضرورت ہے ان کا مرکزی نظام تو بہت مستحکم ہے اور کمپیوٹر کی مدد سے جدید ترین طریق پر وہ حسابات رکھتے ہیں لیکن خالی کمپیوٹر سے کام نہیں بنا کر تے۔نظام جماعت میں دو چیزوں کی ضرورت ہے اول اخلاص کے معیار کو بلند کرنا۔دوسرے