خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 854 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 854

خطبات طاہر جلد ۱۰ 854 خطبہ جمعہ یکم نومبر ۱۹۹۱ء میں انہوں نے یہ عہد و پیمان باندھے تھے اور بڑے بڑے دعاوی کئے تھے کہ ہم اپنے آپ کو احمدیت کو مٹادینے کے لئے وقف کرتے ہیں اور ہمارا مقصد حیات یہی ہے کہ احمدیت کو صفحہ ہستی سے ناپید کر دیا جائے۔چنانچہ عطاء اللہ شاہ بخاری نے ۱۹۳۳ء کے لگ بھگ قادیان کے جلسہ میں یہ اعلان کیا تھا کہ آپ دیکھیں گے کہ ہم منارۃ المسیح کی اینٹ سے اینٹ بجادیں گے اور قادیان میں کوئی مرزا غلام احمد کا نام لیوا باقی نہیں رہے گا۔یہ وہ بلند دعاوی تھے جو احرار نے کئے بلند ان معنوں میں کہ شور بہت بلند تھا مگر معنوی لحاظ سے دنیا کے پست ترین دعاوی تھے کیونکہ وہ دعویٰ جو خدا کی آواز کو مٹانے اور دبانے کے لئے کیا جائے وہ دنیا کا ذلیل ترین دعوی کہلا سکتا ہے۔پس ایک لحاظ سے بلند اور ایک لحاظ سے پستی میں انتہائی ذلت کے مقام کو پہنچا ہوا یہ دعوی تھا جس کے ردعمل میں حضرت مصلح موعودؓ نے بہت سے پروگرام بنائے اور جماعت کو اس تحریک کے مقابلے کے لئے آمادہ کیا۔اس دوران اللہ تعالیٰ نے القاء کے طور پر آپ کے دل پر یہ تحریک نازل فرمائی اور آپ نے اپنے خطبہ میں ذکر فرمایا کہ تحریک تو میری ہے مگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ ایک القاء ہے اور یقیناً یہ ایک الہی تحریک ہے جو دنیا میں عظیم الشان نتائج پیدا کرے گی۔پس وہ احرار جو قادیان کی چار دیواری میں بھی احمدیت کا دم گھونٹنے کا عزم لے کر اٹھے تھے ان احرار کے اپنے دم گھونٹے گئے اور حضرت مصلح موعودؓ نے انہی دنوں میں جبکہ وہ یہ بلند بانگ دعاوی کر رہے تھے یہ اعلان کیا کہ خدا نے جو مجھے خبر دی ہے اس کے مطابق میں احرار کے پاؤں تلے سے زمین نکلتی دیکھ رہا ہوں۔پس ان کی اپنی زمینیں ان کے پاؤں تلے سے نکل گئیں اور خدا تعالیٰ نے دنیا میں وسیع ممالک کی نئی نئی زمینیں احمدیت کو عطا کیں اور آج یہ اسی تحریک جدید کے اخلاص اور قربانیوں کا پھل ہے کہ جماعت احمد یہ اس وقت دنیا کے ۱۲۶ ممالک میں قائم ہو چکی ہے۔پس دنیا کی تحریکات اپنے عزائم لے کر اٹھتی ہیں۔ان کے نتیجہ میں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک عزم کا اظہار ہوتا ہے اور ہمیشہ اللہ ہی کا عزم ہے جو دنیا پر غالب آیا کرتا ہے۔چنانچہ قرآن کریم نے اس مضمون کو یوں بیان فرمایا وَ مَكَرُوا وَمَكَرَ اللَّهُ وَاللَّهُ خَيْرُ الْمُكِرِينَ (ال عمران : ۵۵) وہ بھی مکر کرتے ہیں ، تدبیریں کرتے ہیں اور اللہ کا مکر یقیناً غالب آتا ہے اور ہمیشہ غالب آتا ہے اور ان معنوں میں خَيْرُ الْمُكِرِينَ کہ وہ بدیوں کے مکر کرتے ہیں اور اللہ بھلائی کے مکر کرتا ہے اور اچھی اچھی تدبیریں کرتا ہے۔