خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 846 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 846

خطبات طاہر جلد ۱۰ 846 خطبه جمعه ۲۵ را کتوبر ۱۹۹۱ء ہے ایک ایسا واقعہ جس نے ظہور میں آنا تھا جو حقیقت تھی کہ جب دشمن کے سامنے مسلمانوں کی فوج صف آراستہ تھی اس وقت مسلمانوں نے جو اپنے اندزے کئے وہ بعینہ یہی تھے جو رڈیا کے مطابق تھے تو معلوم ہوا کہ اللہ تعالیٰ کا تصرف ایسا عظیم الشان ہے کہ غلط بات دکھائے بغیر وہ تاثر پیدا فرمادیا جس کا پیدا فرمانا مسلمانوں کی بقا کے لئے ضروری تھا اور حیرت انگیز ہے فرمایا: وَإِذْ يُرِيكُمُوهُمْ إِذِ الْتَقَيْتُمْ فِي أَعْيُنِكُمْ الہی تصرف کے مطابق جاگے ہوئے ایک چیز کا کم دکھایا جانا یا زیادہ دکھایا جانا یہ جھوٹ میں شامل نہیں ہے اور خدائی تصرف نے مسلمانوں کو وہ نظارہ دکھا دیا جس کے اندر ایک مصلحت یہ تھی کہ آنحضرت ﷺ کی رو یا حقیقہ سچی ثابت ہو اور یہ سارے مسلمان اس بات کے گواہ بن جائیں کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ نے سچ دیکھا اور سچ فرمایا ، ورنہ اگر نعوذ باللہ ایسانہ ہوتا اور آنحضرت ﷺ یہ کہ کر مسلمانوں کو میدان جنگ میں لے جاتے جیسا کہ آپ نے ان کو فرمایا تھا کہ مجھے خدا نے بتایا ہے کہ دشمن کی تعداد تھوڑی سی ہے کوئی حرج نہیں ہے چلو وہاں دشمن زیادہ دکھائی دیتا تو آپ اندازہ کر سکتے ہیں کہ کتنی بڑی قیامت آتی اور کتنا بڑا فتنہ پیدا ہو جاتا یعنی کمزور ایمان والوں کے لئے ۔ سچے مومنوں کے لئے تو فتنے کا کوئی مقام نہیں ہوا کرتا اور اللہ کی شان دیکھیں کہ ان میں سے ہر شخص ، ہر مجاہد جو اس غزوہ میں شامل تھا ہر ایک کی آنکھوں نے یہی نظارہ دیکھا جو حضرت محمد رسول اللہ کو دکھایا گیا تھا کہ دشمن کم ہے اور آپ تعداد میں زیادہ ہیں۔ صلى الله عليسة صلى پس جماعت احمدیہ کی تقویت کے لئے اور ان کو سہارا دینے کے لئے اور بہت قوی اور بڑے دشمن کے رُعب سے بچانے کی خاطر خدا تعالیٰ نے میں سمجھتا ہوں کہ اپنے تصرف کے تابع یہ انتظام فرمایا اس لئے حضرت خلیفہ مسیح الثالث کا جو اندازہ تھاوہ ایک الہی تصرف کے تابع تھا لیکن جب حقیقت میں اعداد و شمار پر بحث ہو تو اس وقت احمدیوں کا اس بات پر اصرار کرنا کہ ہم ضرور اتنے ہیں یہ درست نہیں ہے یا اس کو مزید بڑھا چڑھا کر بیان کرنا یہ بھی درست نہیں ہے اس میں احتیاط کرنی چاہئے۔ اس کا موقعہ اس لئے پیش آیا کہ ایک جگہ سے مجھے خط آیا کہ تعداد کے اوپر میری کسی سے گفت و شنید ہوئی اور اس نے حتماً کہا کہ ہر گز تم اتنے نہیں اور میں تیار ہوں کہ میں اس بات پر مباہلہ کر لوں ۔ ایک تو مباہلہ کا مضمون عام ہو گیا ہے یہاں تک کہ پاکستان کے ایک جاہل مولوی نے یا کسی نے تعداد کے معاملہ میں مجھے مباہلہ کا چیلنج دیا تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کے ذہن پر یہ اثر ہو گا اس لئے اس