خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 845
خطبات طاہر جلد ۱۰ 845 خطبه جمعه ۲۵/اکتوبر ۱۹۹۱ء دکھائی دیتا ہے تو مقابل پر اپنی تعداد زیادہ دکھائی دے گی اور یہ الہی حکمت ہوتی ہے چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی ایک سے زائد مرتبہ یہ الہام ہوا کہ نصرت بالرعب کہ مجھے رعب کے ذریعہ نصرت عطا کی گئی تو جماعت کا ایک رعب بھی ہے اور وہ رعب بہت بڑا ہے اس رعب کے مقابل پر ہماری تعداد تھوڑی ہے لیکن اس رعب پر جب نظر جاتی ہے تو کروڑ سے بھی زیادہ دکھائی دیتی ہے اور خدا تعالیٰ کی تقدیر بعض دفعہ ایسا کیا کرتی ہے۔چنانچہ میں نے قرآن کریم کی جن آیات کی تلاوت کی ہے اس پر کوئی جاہل مولوی تو اعتراض کر سکتا ہے مگر صاحب فراست جو انسانی نفسیات پر نظر رکھتا ہے اس کے لئے اعتراض کی کوئی گنجائش نہیں۔تو اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو مخاطب کر کے فرمایا کہ یاد کرو وہ وقت جبکہ میں نے تجھے رویا میں دشمن کی تعداد کم دکھائی اب پہلا سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ دکھا رہا ہے نعوذ باللہ جھوٹی رویا دکھائی اور خدا تعالیٰ کو غلط بیانی کی کیا ضرورت تھی اگر نعوذ باللہ مولوی کی تعریف میں یہ غلط بیانی کہلائے تو یہ عجیب و غریب بات ہے کہ اللہ تعالی خود دکھا رہا ہے اور یہ فرماتا ہے کہ میں نے ایسا کیا اور تجھے تعداد کم دکھائی تو اگر حضرت خلیفہ اسیح الثالث کے دل پر الہبی تصرف کے تابع دشمن کم اور اپنی تعداد کے زیادہ ہونے کا اثر پڑا تو اس میں تعجب کی کونسی بات ہے۔اسی آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اس کی ایک حکمت تھی وَلَوْاَرُ بكَهُمْ كَثِيرًا لَّفَشِلْتُمْ اگر تمہیں ان کی تعداد زیادہ دکھائی دی جاتی جیسا کہ تھی اور نسبت کے لحاظ سے تم کم ہو جاتے اور وہ زیادہ ہو جاتے تو تم میں سے بہت سے ایسے کمزور ہیں جو پھسل جاتے اور ٹھوکر کھا جاتے اور آپس میں تم لوگ اختلاف شروع کر دیتے۔اللہ تعالیٰ سینوں کے راز کو بہتر جانتا ہے۔لیکن پھر بھی یہ سوال رہ جاتا ہے کہ اس کے باوجود واقعات کے خلاف آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کیوں رویا دکھائی گئی تاثر اور چیز ہے تاثر میں غلطی لگ جایا کرتی ہے مگر اللہ رویا دکھائے صلى الله اور آنحضرت ﷺ کو دکھائے اور واقعات کے خلاف ہو یہ عجیب بات ہے جو قابل فہم نہیں ہے اس کا جواب اگلی آیت میں موجود ہے اور وہ یہ ہے کہ وَإِذْ يُرِيكُمُوهُمْ إِذِ الْتَقَيْتُمْ فِى أَعْيُنِكُمْ قَلِیلا کہ اے مومنو! جب تم خود جاگے ہوئے اپنی آنکھوں سے ان کو دیکھ رہے تھے اور ان کی تعداد کو کم سمجھ رہے تھے وہ وقت یاد کرو تو اللہ تعالیٰ نے رویا میں آنحضرت ﷺ کو یہ واقعہ دکھایا