خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 829
خطبات طاہر جلد ۱۰ 829 خطبه جمعه ۱۸ اکتوبر ۱۹۹۱ء پر مقالے لکھوا کر وہ اپنے رنگ میں نہایت عمدگی کے ساتھ آخر اپنے مطلب کو وہاں تک پہنچا دیتے ہیں اور راویل صاحب جن کا میں نے ذکر کیا ہے یہ اتنے ماہر ہیں کے B۔B۔C جو بڑے اعلیٰ معیار کے مترجمین کو قبول کرتی ہے جن کا ترجمے کا معیار بہت بلند ہے انہوں نے ان کو اس قابل سمجھا کہ ہنگیرین زبان میں یہ B۔B۔C کی نمائندگی کریں۔اور بھی بہت سی زبانیں یہ جانتے ہیں۔ترکی زبان بھی جانتے ہیں لیکن پانچ زبانیں مجھے انہوں نے بتایا ایسی ہیں کہ وہ بآسانی بغیر کسی دقت کے بغیر توقف کے وہ ایک زبان سے دوسری زبان میں ترجمہ کر لیتے ہیں تو اسی طرح ازبکستان وغیرہ میں ایسے لوگ بکثرت ہیں جو زیادہ زبانیں جاننے والے ہیں اور کوئی احمدی جس کو سوائے اردو کے کوئی زبان نہیں آتی وہ ازبکستان کے علاقہ میں تو اپنے آپ کو کلیہ اجنبی نہیں پائے گا۔وہاں ضرور اسے ایسے آدمی مل جائیں گے جو اس کا ترجمہ کر سکیں اور دیگر جگہوں میں بھی اگر تلاش کیا جائے تو کوئی نہ کوئی ایسا مل جائے گا۔تو وہ لوگ جو اپنے آپ کو روس میں وقف کے لئے پیش کرنا چاہتے ہیں وہ زبان کے تردد میں نہ پڑیں۔اگر وہ تو فیق رکھتے ہیں کہ اپنے خرچ پر روس میں دو چار ہفتے یا مہینہ دو مہینے گزار سکیں تو وہ با قاعدہ تحریک جدید کی معرفت یا براہ راست مجھ سے رابطہ قائم کریں اور ہم ان کی راہنمائی کریں گے کہ کہاں جانا ہے اور کیا کیا اس علاقہ کی ضروریات ہیں جنہیں ان کو پورا کرنا ہوگا اور چونکہ جماعت احمدیہ کے روابط اب بہت سے علاقوں میں قائم ہو چکے ہیں اس لئے کوئی مشکل نہیں کہ ہم ایسے لوگوں سے ان کے رابطے کروادیں جو ان کو سنبھال لیں اور ابتدائی طور پر ان کی مدد کریں۔اگر چہ ان کو اپنے اخراجات خود ہی برداشت کرنے چاہئیں لیکن روسی اقوام میں مہمان نوازی بہت ہے اور وہ کوشش یہی کریں گے کہ جس طرح بھی ہو چاہے آپ ان کو پورا کھانا میسر آئے نہ آئے آنے والے مہمانوں کا خیال رکھیں ایک غلط نہی کا یہ حصہ تھا جو دور کرنا چاہتا تھا۔دوسرا یہ ہے کہ جب ہم لفظ روس بولتے ہیں روس کہتے ہیں یا روسی کہتے ہیں تو باہر کی دنیا خصوصاً ہند و پاکستان میں اس سے مراد U۔S۔S۔R ہے یعنی یونین آف سوویٹ سوشلسٹ ریپبلک لیکن جس بڑے ملک کو ہم روس کہتے ہیں وہاں پہنچیں تو وہاں جب بھی آپ روس کہیں گے اس سے مراد صرف یورپین ریاست روس ہے اس کے سوا روس سے کچھ مراد نہیں لی جاتی۔U۔S۔S۔R کی سب سے بڑی ریاست کا نام روس ہے یعنی رشیاء اور اس میں بھاری اکثریت یور پینز کی ہے۔اگر چہ روسی