خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 828
خطبات طاہر جلد ۱۰ 828 خطبه جمعه ۱۸ /اکتوبر ۱۹۹۱ء پس روسی زبان جاننا کوئی شرط نہیں ہے۔علاوہ ازیں اگر ان میں سے بھی کوئی زبان نہ آتی ہو تو اب تک جو میں نے جائزہ لیا ہے اس سے مجھے معلوم ہوا ہے کہ اکثر ریاستوں کے صدر مقامات میں ہر قسم کے مترجمین مل جاتے ہیں اور بعض بہت اچھے اچھے ترجمے کرنے والے بہت سستے داموں مہیا ہو جاتے ہیں۔مثلا یہ ازبکستان ہے، بخارا اور سمر قند وغیرہ کے علاقے ہیں ان میں بڑے اچھے اردو دان بھی موجود ہیں۔جب میں نے اپنا نمائندہ وہاں بھجوایا تو مجھے معلوم کر کے حیرت ہوئی کہ بہت ہی اچھے اردو دان جو ریڈیو اور ٹیلی ویژن پر بھی اردو میں تقریریں کرتے ہیں اور پھر بعض اردو کے رسالے بھی شائع کرتے ہیں وہ نہ صرف وہاں مہیا ہیں بلکہ بہت ہی معمولی داموں پر ان کی صلاحیتوں کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔پھر ایک سے زیادہ زبانیں جاننے والے بھی وہاں بہت موجود ہیں۔ایسے بھی ہیں جو دو تین چار مشرقی زبانیں جانتے ہیں اور ہر قسم کے مواقع کے لئے مفید ثابت ہو سکتے ہیں یعنی اگر کوئی احمدی پاکستان سے جاتا ہے جو اردو دان ہے تو وہ اردو سے اس مقامی زبان میں بھی ترجمہ کر سکتے ہیں۔روسی زبان میں بھی ترجمہ کر سکتے ہیں۔اگر کوئی عرب احمدی جاتا ہے تو ایسے ترجمہ کرنے والے ہیں جو عربی سے ترکی ، فارسی اور دوسری زبانوں میں ترجمہ کر سکتے ہیں۔زبانوں کے لحاظ سے اس بات نے مجھے بہت ہی متعجب کیا۔میرا خیال تھا کہ روس کے علاقوں میں سوائے ایک آدھ زبان کے لوگوں کا زبانوں کی طرف رجحان نہیں ہو گا مگر ہمارے اس دور کے پہلے روسی احمدی جو ایک بہت قابل آدمی ہیں ، مسٹر راویل ، وہ آج کل یہاں تشریف بھی لائے ہوئے ہیں اور انہوں نے اکثر اپنی زندگی احمدیت کیلئے وقف کر رکھی ہے ان کے متعلق مجھے یہ معلوم کر کے تعجب ہوا کہ پانچ زبانیں نہایت شستگی سے جانتے ہیں۔مثلاً مشرقی یورپ کی زبانوں میں سے روسی زبان کے تو وہ بہت اچھے لکھنے والے ماہر شاعر بھی اور ڈرامہ نویس بھی اور کالم نویس بھی لیکن ہنگیرین زبان میں بھی ایسے ماہر ہیں کہ B۔B۔C نے اپنے ہنگیرین پروگرام کے لئے ان کی خدمات حاصل کی ہیں اور ہنگیرین قوم کو B۔B۔C جو پیغام بھیجنا چاہتی ہے آج کل ان کے ذمہ ہے کہ وہ کچھ وقت ہنگیرین زبان میں وہ پیغامات ان قوموں کو پہنچا ئیں۔یعنی اگر چہ پیغامات کی شکل میں تو نہیں دیئے جاتے مگر جب B۔B۔C غیر زبانوں میں اپنے پروگرام بناتی ہے تو آخر مقصد یہی ہوا کرتا ہے کہ انگلستان جو باتیں ان تک پہنچانا چاہتا ہے اس رنگ میں وہ ان تک پہنچیں مختلف مضامین کی شکلوں میں مختلف اہم امور