خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 805 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 805

خطبات طاہر جلد ۱۰ 805 خطبه جمعه ۱۱ اکتوبر ۱۹۹۱ء جماعت کو جو مال دیا جاتا ہے اس پر دینے والے کا کوئی حق نہیں رہتا۔ پاک نیت سے چندے دیں۔ ( خطبه جمعه فرموده ا ا راکتو بر ۱۹۹۱ء بمقام بیت الفضل لندن ) تشہد و تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا:۔ صلى الله آج میں دو تین متفرق امور سے متعلق جماعت سے کچھ باتیں کرنی چاہتا ہوں سب سے چاہتا پہلے تو گذشتہ خطبے کے مضمون کو دوبارہ از سرنو چھیڑنا ہے ۔ وہ فتنہ جو مالمو میں پیدا ہوا جس کی بروقت ہے۔ وہ سرزنش کی گئی اس سلسلہ میں ایک دو وضاحتوں کی ضرورت ہے۔ میں نے یہ کہا تھا کہ وہ لوگ جنہوں نے چندہ دیا اور پھر مانگا ان پر حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ کی فرمودہ یہ مثال صادق آتی محمدرسول ہے کہ تحفہ پیش کرنے والا اگر اس کی واپسی کا خیال کرے تو ایسا ہی ہے جیسے قے کر کے اسے دوبارہ چائے (مسلم حوالہ۔۔۔ اور یہ ایسی مکروہ چیز ہے جو انسانی تعلقات میں بھی قابل قبول نہیں ، کجا یہ کہ خدا کے تعلق میں انسان یہ وہم بھی کر سکے کہ خدا کے حضور کچھ پیش کر کے اسے واپس مانگا جائے ۔ چنانچہ اس حدیث کی روشنی میں میں نے اس معاملہ کی کراہت کو ظاہر کرتے ہوئے بیان کیا تھا کہ اس رقم کا واپس کرنا ہی بہتر ہے لیکن اس ضمن میں بعض اور سوال اٹھ کھڑے ہوتے ہیں اور بعض فتنوں کے دروازے بھی کھل سکتے ہیں اس لئے ان کی پیش بندی کے لئے میں اس معاملہ کو دوبارہ چھیڑ رہا ہوں ۔ مضمون اپنی ذات میں درست ہے۔ ایسے شخص کے متعلق کراہت کا اظہار اس سے بہتر