خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 800 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 800

خطبات طاہر جلد ۱۰ 800 خطبه جمعه ۴ اکتوبر ۱۹۹۱ء سمجھ آجاتی ہے کہ آنحضرت ﷺ سے پہلے کے زمانے کو جاہلیت کا زمانہ کہتے ہیں کفر کا زمانہ نہیں کہتے۔جاہلیت کے اندر ایک مخفی کفر ہے۔جاہلیت کفر میں اس وقت تبدیل ہوتی ہے جب دوٹوک حکم نازل ہو جاتا ہے کہ یہ کرنا ہے یا وہ کرنا ہے۔اس وقت جاہلیت کے اندر دبا ہوا کفر سر اٹھاتا ہے اور انکار کردیتا ہے۔پس یہ بہت ہی عظیم اصطلاح ہے جو قرآن کریم نے استعمال فرمائی کہ آنحضرت کے زمانے سے پہلے کو جاہلیت کا زمانہ قرار دیا یعنی روحانی لحاظ سے انتہائی غربت کا زمانہ فقر اور فاقوں کا زمانہ اور وہی عقلی فقر تھا جو کفر میں تبدیل ہو گیا۔پس مجھے اس سے بحث نہیں ہے کہ یہ فتنے پیدا کہاں سے ہوئے تھے۔براہ راست تقویٰ کا قصور تھا یا عقل کا قصور تھا کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے یہ مسئلہ ہمیشہ کے لئے حل کر دیا ہے۔ہمیں یہ تو حق نہیں دیا کہ کسی کے دل میں اتر کر اس کی نیتوں پر حملہ کرومگر یہ حق بھی دیا اور پہچان بھی دی کہ جہاں نیتوں کے نتائج بے وقوفی پر منتج ہوں ، سخت حماقتوں کی صورت میں ظاہر ہورہے ہوں وہاں تمہیں حق ہے کہ کہو کہ ان باتوں کا تقویٰ سے کوئی تعلق نہیں اور یہ کفر کی باتیں ہیں۔پس جدھر چاہو کروٹ بدلو۔خواہ اپنے تقویٰ کی کمی کا قصور تسلیم کر دیا عقل کی کمی کا قصور تسلیم کر ظلم بہت بڑھا ہوا ہے اور اب زبانی طور پر یا تحریری طور پر کہہ دینا جی !ہم تو جاہلیت کی غلطیاں کرتے تھے معاف کر دینا۔یہ سرسری باتیں ہیں۔اس طرح یہ حل ہونے والی نہیں ہیں۔ان کے متعلق مزید تحقیق ہوگی اور معین فیصلے کئے جائیں گے لیکن یہ فیصلہ تو بہر حال کیا جا چکا ہے کہ جس نے اپنے چندے کو قے بنادیا وہ تو اب خدا کی طرف واپس نہیں لوٹے گی۔وہ تو آپ کی جیبوں کو زیب دے گی اور سلسلے کو اس کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔تمام دنیا کی جماعتوں کو اس سے نصیحت پکڑنی چاہئے۔نظام جماعت میں کسی ناانصافی کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔جب ہر فرد کو یہ حق ہے اور بعض جگہ جیسا کہ میں نے بیان کیا فرض ہے کہ وہ خلیفہ وقت سے ہر وقت براہ راست تعلق قائم کر سکتا ہے اور لوگ جب اپنی ادنی ادنی باتوں میں کرتے ہیں تو نظام جماعت میں کیوں مجھ پر رحم کرتے ہیں۔کسی کی بہو ناراض ہوگئی کسی کا بیٹا روٹھ گیا ،کسی کے بچے کو فلاں لت لگ گئی وہ اطلاعیں مجھے دینے میں سمجھتے ہیں میرا حرج کوئی نہیں ہے لیکن جب نظام جماعت میں رخنہ پیدا ہورہا ہو تو کہتے ہیں ہم اس لئے نہیں بتارہے تھے کہ آپ کو تکلیف نہ پہنچے۔یہ بھی نیت کا فتور ہے یا وہی کہنا چاہئے کہ یا نیت کا فتور ہے یا پھر عقل کا فتور ہے۔دونوں صورتوں میں