خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 4
خطبات طاہر جلد ۱۰ خطبہ جمعہ ۴ جنوری ۱۹۹۱ء ہی پھر ان کے نچلے طبقے سے اٹھا کر ایک بغیر طبقات کے سوسائٹی میں عزت کا مقام عطا کیا گیا۔چنانچہ اس کے خلاف سب سے زیادہ رد عمل دیگر مسلمان تھری لوگوں نے دکھایا۔جب ہم اُن کے ساتھ بیٹھ کر چائے پیتے تھے یا کھانا کھاتے تھے تو شدید نفرت کا اظہار دوسرے مسلمانوں کی طرف سے کیا جاتا تھا جن کے مذہب میں طبقاتی تقسیم کا تصور ہی کوئی نہیں اور ہندو اس نفرت سے ہمیں نہیں دیکھتے تھے بلکہ وہ حیرت سے دیکھتے تھے کہ یہ عجیب لوگ ہیں کہ جنہوں نے اپنی ظاہری عزت کی کوئی پرواہ نہیں کی اور مذہب کے تبادلے کے نتیجے میں ان کے ساتھ برابر ہو گئے ہیں۔بہر حال ایک لمبا عرصہ اس جد و جہد میں گزرا یہاں تک کہ خدا تعالیٰ کے فضل سے وہاں کی را میں تبدیل ہو ئیں سوچیں بدلی گئیں اور بہت بڑا انقلاب بر پا ہوا۔مشکل صرف یہ در پیش تھی کہ ان کے اندر گہرا اسلام جذب کرانے کے لئے بہت محنت درکار تھی۔سادہ محبت کا پیغام تو حید کا پیغام بڑی آسانی سے سمجھ جاتے تھے اور قبول بھی کر لیتے تھے لیکن اس بات کی راہ میں بہت بڑی دقتیں حائل تھیں کہ با قاعدہ نماز سکھائی جائے اور پھر نماز کا عادی بنایا جائے۔روزے سکھائے جائیں اور پھر روزے رکھنے کی عادت ڈالی جائے اور اسلام کے پر ہیزوں کے متعلق تلقین کی جائے، پاکیزگی کے متعلق تلقین کی جائے۔پھر اس پر عمل پیرا کرنے کے لئے اس پر ان کی مدد ہو، ان کی نگرانی کی جائے وغیرہ وغیرہ۔اس عرصے میں یعنی اس گزشتہ تمام عرصے میں مسلسل وقف جدید کے معلمین وہاں یہی کام کر رہے ہیں اور اگر چہ حالات بہت ہی ناسازگار ہیں، اتنے ناسازگار ہیں کہ آپ جب تک وہاں جائیں نہ اُس وقت تک آپ کو تصورہی نہیں ہوسکتا کہ کن مشکلات میں وہاں وقف جدید کے معلمین نے پہلے کام کیا اور اب بھی اگر چہ مشکلات نسبتا کم ہیں لیکن پھر بھی بہت مشکل حالات ہیں۔میں جب پہلی دفعہ وہاں گیا تو پہلی تکلیف جو شدت سے محسوس ہوئی وہ پانی کا فقدان تھا۔یعنی پانی میسر تو تھا لیکن ایسا خوفناک کہ اُسے پینے سے بجائے اس کے کہ پیاس بجھے الٹی آتی تھی اور طبیعت متلانے لگتی تھی۔تیل کی طرح کا پانی مٹھی کے علاقے میں ہوتا ہے اور وہ بھی قیمت دیکر خریدنا پڑتا تھا اور دنیا کی کوئی سہولت وہاں میسر نہیں تھی۔وہ تو خیر کوئی ایسی معمولی بات ہے، عام دنیا کی جو موجودہ زمانے کی بڑی سہولتیں ہیں اس کے بغیر بھی انسان بہت اچھی طرح گزارہ کر سکتا ہے۔زندگی کے انداز بدلنے پڑتے ہے لیکن پانی اچھا میسر نہ ہو تو زندگی بہت ہی تکلیف میں کٹتی ہے۔بہر حال