خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 789 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 789

خطبات طاہر جلد ۱۰ 789 خطبه جمعه ۴ اکتوبر ۱۹۹۱ء ساری دنیا کی جماعتیں جانتی ہیں کہ چندہ دینے والا ہمیشہ محض اللہ کی رضا کو پیش نظر رکھ کر چندہ دیتا ہے۔نہ اس کا کوئی ذاتی مفاد اس کے پیش نظر ہوتا ہے نہ اس جماعت کا مفاد اس کے پیش نظر ہوتا ہےجس جماعت کا وہ ممبر ہے۔آج اس جماعت کا ممبر ہے کل کسی اور جماعت کا ہو جائے گا اور چندہ دیتے وقت اس کے واہمہ میں بھی یہ بات نہیں گزرتی کہ جو چندہ میں اس جماعت کے فرد کے طور پر دے رہا ہوں بعد میں میری جماعت کو اس چندے میں سے کتنا حصہ ملے گا اور کتنے فوائد اس کو پہنچیں گے۔یہ عالمی نظام یعنی جماعت احمدیہ کا مقدس مالی نظام جو خالصہ اللہ ہے اور جب تک خالصہ للہ رہے گا مقدس رہے گا ۲۶ ممالک میں پھیل چکا ہے اور آج تک میرے علم میں کسی طرف سے ایسی آواز پہلے نہیں آئی تھی کہ جماعت کراچی اتنا چندہ ادا کرتی ہے اس لئے جماعت ربوہ کے اوپر اتنا خرچ نہ کیا جائے بلکہ اتنا جماعت کراچی پر خرچ ہونا چاہئے ، جماعت لاہور اتنا ادا کرتی ہے، پنڈی بھٹیاں اتنا ادا کرتی ہے ، پنڈی بھٹیاں کو کیوں ایک مبلغ دے دیا گیا اس کی آمد اتنی ہے کہ چند دن کی تنخواہ کی بھی متحمل نہیں ہو سکتی۔فلاں ضلع میں کیوں اتنا خرچ کر دیا گیا۔فلاں کام پر اتنا خرچ کیوں کر دیا گیا؟ ایسے شیطانی وساوس آج تک میرے علم میں نہیں آئے حالانکہ وقف جدید کا بھی مجھے وسیع تجربہ ہے۔دوسرے سلسلہ کے کاموں میں بھی ہر قسم کی ادنی خدمات پر میں مامور رہا ہوں اور کبھی آج تک یہ واقعہ میرے علم میں نہیں آیا کہ یہ فتنے اٹھائے گئے ہوں کہ فلاں علاقہ کی آمد اتنی ہے۔فلاں شہر کی آمد اتنی ہے اس لئے ان پر اتنا خرچ کیا جائے۔ہاں نظام جماعت نے از خود بعض معمولی روز مرہ کے اخراجات کے لئے حصے مقرر فرما ر کھے ہیں اور مجلس شوری نے ان کی تعیین کر دی ہے کہ اگر ایک جماعت اتنی رقم ادا کرتی ہے تو اس کے روز مرہ کے شہری اخراجات یاد یہاتی اخراجات چلانے کے لئے اتنا خرچ اس کو مل جانا چاہئے۔اسے مرکزی گرانٹ کہا جاتا ہے۔باقی سب کے متعلق جماعت کی مجلس شوریٰ غور کرتی ہے اور قطع نظر اس سے کہ پیسہ کہاں سے آیا تھا اس بات پر غور کرتی ہے کہ کہاں خرچ ہونا چاہئے اور سلسلے کے اعلیٰ مفادات کا تقاضا کیا ہے؟ اسے کیسے خرچ کیا جائے اور یہ بحث کبھی نہیں اٹھائی گئی کہ فلاں جماعت کے بجٹ کے لئے چونکہ اس کے چندے زیادہ ہیں اس لئے ان کو سپیشل نمائندگی اس غرض سے دی جائے کہ وہ دیکھیں کہ ان کے مفادات کی حفاظت ہورہی ہے کہ نہیں۔اس قسم کی باتیں پہلی دفعہ جب میں یورپ کے دورے سے واپس آیا ہوں تو مجھے ایک رات