خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 788 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 788

خطبات طاہر جلد ۱۰ 788 خطبه جمعه ۴ اکتوبر ۱۹۹۱ء اوجھل رکھا اور دونوں کا عذر یہ ہے کہ ہم سے بے وقوفی ہوئی ہے۔اب میرا کام یہ تو نہیں کہ نیتوں کی کنہہ میں اتر کر ان کی جڑوں تک پہنچوں اور بتاؤں کہ بے وقوفی نہیں تھی یہ تقویٰ کی بیماری ہے کہیں نہ کہیں اس جڑ کو کوئی بیماری لگی ہوئی ہے جس کے نتیجہ میں تم سے ایسی ظالمانہ حرکت سرزد ہوئی۔لیکن اللہ بہتر جانتا ہے۔میرے لئے اتنا ہی کافی ہے کہ عقل کی کمی کی وجہ سے بھی اگر ایک فتنہ پیدا ہوتا ہے تو جہاں تک مومن کا کام ہے فتنے سے جماعت کو بچانا اس کا فرض ہے اور اگر فتنہ عقل میں پیدا ہو چکا ہواور یہ بھی احساس نہ رہا ہو کہ اس فتنے سے بچانا ہمارا فرض ہے تو وہاں جا کر مکمل طور پر بحران کی شکل پیدا ہو جاتی ہے۔اب میں نیتوں کا واقف نہیں ہوں لیکن خدا تعالیٰ نے مجھ پر یہ ذمہ داری ڈالی ہے کہ جماعت کو ہر فتنے سے متنبہ بھی کروں اور اگر وہ پیدا ہو چکا ہو تو اس سے بچانے کی کوشش کروں۔اس لئے مجھے اس سے بحث نہیں کہ وہ عقل کے بحران کا فتنہ ہے یا تقویٰ کے بحران کا فتنہ ہے جو بھی فتنہ حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے روحانی طور پر قائم کردہ مقدس نظام پر حملہ آور ہوگا۔میں اس سے قطع نظر کہ وہ کس بحران کا فتنہ ہے، اس کا سرشدت سے کچلنے کی کوشش کروں گا اوراس معاملہ میں ایک ذرہ بھی رحم میرے دل میں پیدا ہونا گناہ عظیم ہوگا کیونکہ انسانوں کی غلطیوں پر انسانوں پر رحم کیا تو جاتا ہے لیکن نظام جماعت کو فنا کرنے کی کوشش اور برباد کرنے کی کوشش خواہ وہ بے وقوفی سے سرزد ہوئی ہے یا کسی اور وجہ سے اس کے متعلق اس کوشش کو کچلنے میں ہر گز رحم سے کام نہیں لیا جا تا نہ لیا جا سکتا ہے، نہ خدا مجھے اس کی اجازت دیتا ہے۔میں نے ان لوگوں کو سمجھانے کی بہت کوشش کی اور جب پوری طرح اپنا سر کھپا بیٹھا اور پھر بھی ان کے کان پر جوں تک نہیں رینگی سوائے ایک دو اشخاص کے اور ان کو یہ سمجھ ہی نہیں آرہی کہ ہم سے غلطی کیا ہوئی ہے۔جب یہی نہ پتہ چلے کہ غلطی کیا ہوئی ہے تو اب اس کی یہی صورت ہے کہ ساری دنیا کی جماعت کے سامنے بتاؤں کہ یہ غلطی ہے۔آئندہ کوئی بھی اپنی بے وقوفی یا کم عقلی کا عذر رکھ کر ایسی باتوں کا وہم بھی دماغ میں نہ لائے ورنہ نظام سلسلہ کو یہ باتیں نہ صرف آج تباہ کرنے والی ہوں گی بلکہ دور تک صدیوں تک اس کے بداثرات ایسے جراثیم کی طرح چمٹ جائیں گے کہ پھر جماعت کے مقدس مالی نظام کی صحت کی کوئی ضمانت نہیں دی جا سکے گی۔