خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 787
خطبات طاہر جلد ۱۰ 787 خطبه جمعه ۴ را کتوبر ۱۹۹۱ء جماعت احمدیہ مالمو سے اظہار ناراضگی تقویٰ یا حکمت کی کمی دونوں ہی فتنہ کا سبب بنتی ہیں (خطبه جمعه فرموده ۴ را کتوبر ۱۹۹۱ء بمقام بیت الفضل لندن) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا: میں کئی مرتبہ پہلے بھی جماعت کو توجہ دلا چکا ہوں کہ تقویٰ اور عقل کا آپس میں بہت ہی گہرا تعلق ہے۔یہ درست ہے کہ اگر کسی انسان کو عقلی صلاحیتیں ہی عطا نہ ہوئی ہوں تو محض اس کا تقو کی عقل کے سارے تقاضے پورے نہیں کر سکتا لیکن تقویٰ کے بغیر انسان بالکل اندھا ہو جاتا ہے اور بھر پور عقل بھی کوئی کام نہیں کرتی لیکن عقل کی کمی کو بہت حد تک تقومی دور کر دیا کرتا ہے اور بڑی ٹھوکروں سے انسان کو بچالیتا ہے۔بعض فتنے ایسے ہیں یا ہو سکتے ہیں جن کے متعلق یہ کہنا مشکل ہوتا ہے کہ یہ فتنے تقویٰ کی کمی سے پیدا ہوئے یا عقل کی کمی سے۔دونوں صورتیں اپنے طور پر یکساں صادق آسکتی ہیں اور یہ مطالعہ بھی اس لحاظ سے بہت عبرت آموز ہے اور بہت پر حکمت بھی ہے کہ انسان جب ان فتنوں کی کنہہ پر غور کرتا ہے ، ان کی عادات اور ان کے اسلوب پر غور کرتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ بعینہ وہی باتیں کلیپ عقل کی کمی سے بھی پیدا ہوسکتی ہیں اور تقویٰ کی کمی سے بھی پیدا ہوسکتی ہیں اور ایک ہی فتنے کو تقویٰ کے بحران کا فتنہ بھی قرار دیا جا سکتا ہے اور عقل کے بحران کا فتنہ بھی قرار دیا جا سکتا ہے۔اس کی ایک تازہ مثال مالمو کے فتنے سے ہے جو کچھ عرصہ پہلے یعنی تقریبا گذشتہ دوسال سے وہاں نشو و نما پا تارہا ہے لیکن مقامی امیر نے بھی اور ملک کے امیر نے بھی اسے میری نظروں سے