خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 786 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 786

خطبات طاہر جلد ۱۰ 786 خطبہ جمعہ ۲۷ ستمبر ۱۹۹۱ء Eaters نہیں بنے تو خدا کے لئے تبلیغ کے معاملے میں تو Lotus Eaters نہ بن جاؤ۔یہ ایک وہ جگہ ہے جہاں ہو نا حرام ہے۔اس لئے اگر آپ کو خدا کی نعمتوں کا جو اس نے آپ پر نازل فرمائیں شکر ادا کرتے ہوئے پوری محنت کے ساتھ اپنے جزیرے کو وہ روحانی نعمت بھی عطا کرنے کی کوشش کریں جس سے آپ فیضیاب ہو رہے ہیں تو واقعی دنیا میں جزیرہ ہر پہلو سے جنت نشان بن سکتا ہے۔اس سلسلے میں سر جوڑ کر بیٹھنے کی ضرورت ہے۔آپ لوگوں کو خدا نے اچھا ذہن عطا فرمایا ہے، ترکیبیں سوجھتی ہیں، محنت کر لیتے ہیں، لوگوں کے اندر جذب ہونے کی طاقت موجود ہے، دل جیتنے کی طاقت موجود ہے وہ کون سی چیز ہے جس کی تبلیغ میں ضرورت ہو اور آپ کو مہیا نہ ہو؟ اس لئے سب کچھ ہے اگر دعا کی کمی ہے تو پھر دعائیں کریں اور جس طرح بھی ہو اپنی سابقہ کوتاہیوں کی تلافی کرنے کی کوشش کریں۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر ماریشس کی جماعت پوری طرح مستعد ہو جائے تو جیسا کہ ماریشس کے عام طور پر لوگ ہیں ، صاف لوگ ہیں جلدی اثر قبول کرنے والے ہیں، مخالفت کا اثر بھی جلدی قبول کر لیتے ہیں لیکن پاکستانی میں اور ہندوستانی لوگوں کی طرح مخالفت کے رنگ کو پکا نہیں کرتے بلکہ جہاں شفاف پانی ملا اور رنگ دھل گیا اور دوسرا رنگ چڑھ گیا لیکن خدا کا رنگ پکا ہوا کرتا ہے۔وہ جب چڑھتا ہے تو پھر وہ اس بات کی ضمانت خود دیتا ہے کہ وہ رنگ مستقل رہے گا۔تو میں یہ چاہتا ہوں جس طرح آپ نے دوسرے گندے رنگ جو آپ پر پہلے احمدی ہونے سے چڑھے ہوئے تھے ایک دفعہ دھو ڈالے اور خدا کے رنگ میں رنگین ہوئے اور خدائی لوگوں کی صفات اپنانے کی کوشش کی ہے اگر چہ بہت سی منزلیں ابھی اس معاملے میں طے ہونے والی ہیں میں یہ نہیں میں کہتا کہ آپ درجہ کمال کو پہنچ گئے ہیں لیکن دنیا کی جماعتوں میں آپ کا ایک ایسا مقام ہے کہ مجھے بہت عزیز ہیں۔اس پہلو سے میں آپ سے توقع رکھتا ہوں اور توقع رکھنے کا حق رکھتا ہوں کہ اگر آپ خدا کے فضل کے ساتھ تبلیغ کی طرف بھر پور توجہ دیں تو اس جزیرے کی چند سالوں میں قسمت بدل سکتی ہے اور یہ دنیا ہی میں نہیں بلکہ دین میں بھی ایک جنت جزیرہ بن سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ آپ کو اس کی توفیق عطا فرمائے اور اہل ماریشس کو بھی توفیق عطا فرمائے کہ آپ کے نیک رنگ اختیار کریں اور جلد از جلد احمدیت کی پر امن آغوش میں آجائیں۔آمین اس مختصر افتتاحی خطاب کے بعد اب میں اس خطبے کو ختم کرتا ہوں اور مسنون خطبہ پڑھوں گا۔