خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 785 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 785

خطبات طاہر جلد ۱۰ 785 خطبہ جمعہ ۲۷ ستمبر ۱۹۹۱ء پیشتر اس کے کہ میں دوسرا خطبہ شروع کروں اور اس پہلے حصے کو ختم کروں میں یہ عرض کرنا چاہتا ہوں کہ ماریشس کی جماعت کا آج جلسہ سالانہ شروع ہورہا ہے اور ماریشس کی جماعت نے مجھے سے ایک خواہش کا اظہار کیا کہ یہ خطبہ جمعہ جو ہم بھی سن رہے ہوں گے یہ ہمارے جلسہ کا افتتاح بن جائے اس لئے اس خطبہ جمعہ میں ہمیں مخاطب کر کے بھی کچھ باتیں کریں۔تو چونکہ یہ سارا سلسلہ ریڈیو کے وسیلے سے یعنی ٹیلی کمیونیکیشن کے وسیلے سے خطبے کا دوسرے ملکوں تک پہنچنا ماریشس سے شروع ہوا تھا اور انہی لوگوں کی Brain Wave تھی یعنی ایک خاص ان کے ذہن کی ایک لہر تھی جس سے یہ خیال پیدا ہوا اس لئے ساری دنیا کی جماعتیں ماریشس کی بہر حال ممنون احسان ہیں جن کو فوری طور پر براه راست یہ آواز سنے کی توفیق مل جاتی ہے۔کا ماریشس کی جماعت اللہ تعالیٰ کے فضل سے ایک بہت ہی مستعد اور مخلص جماعت ہے اور ماریشس کے لوگ ذہین بھی ہیں اور اعلیٰ درجہ کا Sence of Humour یعنی ذوق مزاح بھی رکھتے ہیں اور بہت کاموں میں باقاعدہ اور مستعد ہیں۔یہ اگر چہ جزیرہ ایسا ہے جس میں جاکر خیال آتا ہے یعنی Tennison کی ایک مشہور نظم ہے Lotus Eaters جس میں ایک ایسے جزیرے کا نقشہ کھینچا گیا ہے جہاں ہمیشہ ایک ہی سا موسم رہتا ہے۔بہت ہریالی ہے اور بہت سرسبزی اور شادابی ہے اور زمین بھی مہربان ہے اور آسمان بھی مہربان ہے لیکن اتنا مہربان ہیں دونوں کے دونوں کہ لوگوں کو اپنے کاموں کے لئے کچھ کرنا نہیں پڑتا۔اس لئے بے انتہاء سست ہو گئے ہیں اور Lotus کھاتے رہتے ہیں یعنی افیم اور یہ سارا دن ان کا سوائے اس کے کوئی کام نہیں افیم کھائی اور نشے میں دھت رہے اور خدا کی قدرت کے عجائب دیکھتے رہے۔ماریشس ویسے ہی جزیرہ دکھائی دیتا ہے جیسا کا م Lotus Eaters میں بیان کیا گیا ہے مگر بالکل برعکس نتیجہ ظاہر کرنے والا جزیرہ۔یہاں کہ لوگ ایسے خوبصورت جزیرے میں ایسے دائمی اچھے موسم کا فیض پاتے ہوئے بہت محنتی ہیں، بہت مستعد ہیں۔جماعتی کاموں میں بھی اللہ تعالیٰ کے فضل کے ساتھ بہت باقاعدہ اور مستعد اور ہر آواز پر لبیک کہنے والے ہیں اور ذہنی لحاظ سے اچھی اچھی باتیں ان کو سوجھتی رہتی ہیں۔صرف ان سے شکوہ یہ ہے کہ تبلیغ کے معاملے میں جیسا ان سے توقع تھی آغاز میں تو وہ پوری کی لیکن اب کچھ سُست ہو گئے ہیں۔اگر دنیا کے معاملے میں Lotus