خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 784 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 784

خطبات طاہر جلد ۱۰ 784 خطبہ جمعہ ۲۷ ستمبر ۱۹۹۱ء اس نے اس کو جب بھیجا ہے تو کوئی بات ہوگی لیکن اصل سبب یہ تعلق نہیں تھا اصل سبب خدا کی تقدیر تھی اور وہ تدبیر تھی جو تقدیر کے نتیجے میں پیدا ہوئی ہے۔تو مكُرُ فِي آيَاتِنَا اور تفكر في آياتنا دونوں میں فرق ہے۔روز مرہ کی زندگی میں ہم سے بار ہا یہ واقعات ہوتے ہیں۔جب بیمار ہوتے ہیں اور اچھے ہو جاتے ہیں تو کہتے ہیں فلاں دوائی سے فائدہ ہوا، فلاں چیز سے فائدہ ہوا۔دوائیاں بھی کام کرتی ہیں مگر خدا کے اذن سے کام کرتی ہیں۔صحیح دوائی تک ذہن کا پہنچ جانا بھی اللہ کے اذن سے ہوتا ہے۔دوائی کو اجازت بھی کام کی تب ملتی ہے جب اللہ تعالیٰ کا اذن ہو۔پس مومن کو ہمیشہ تدبر فی آیات کرنا چاہئے نظر فی آیات چاہئے اور کبھی مـــر فـي الآیات کی عادت نہیں ڈالنی چاہئے کیونکہ یہ ہلاک کرنے والی عادت ہے۔جن قوموں میں انفرادی طور پر آیات میں مکر کرنے کی عادت پڑ جاتی ہے بحیثیت مجموعی، بحیثیت قوم ان کی ساری قومی فکر ہی مکر فی الآیات کی فکر بن جایا کرتی ہے۔جیسے فرعون کی قوم اس سے پہلے اس صورت سے ہلاک ہوئی ہے جیسا کہ اب ہم پاکستان میں بہت دردناک حالات دیکھ رہے ہیں۔اسی طرح کا یہ زہر ہے جو افراد میں داخل ہوتا ہے پھر قومی بیماری بن جاتا ہے اور جب قومی بیماری بن جائے تو قوموں کو ہلاک کر دیا کرتا ہے۔آپ اس بات پر نگران رہیں اور ہمیشہ نگران رہیں تو جب بھی کسی مشکل میں مبتلا ہوں اور خدا تعالیٰ سے التجاء کر کے اس مشکل سے نجات کے لئے خیر طلب کریں، اس خدا کی مدد طلب کریں اور وہ مشکل حل ہو جائے تو خواہ کیسے ہی بڑے بڑے بت آپ کے سامنے کیوں نہ آئیں اور ہر ایک ان میں سے یہ دعوی کر رہا ہو کہ میری وجہ سے تمہارا یہ مسئلہ حل ہوا۔آپ ان سب بتوں کی آواز کورڈ کر دیا کریں اور گردن صرف خدا کے حضور جھکایا کریں لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ اسباب کا شکریہ ادا نہیں کرنا۔شکریہ ادا کرنا ہے مگر اللہ کے حکم سے۔دل پوری طرح خدا کی رضا پر راضی رہنا چاہئے اور مطمئن رہنا چاہئے کہ جو کچھ ہمیں ملا محض اللہ کے فضل سے ملا یعنی چونکہ خدا فرماتا ہے کہ جو بندوں کا شکر ادا نہیں کرتا وہ خدا کا بھی شکر ادا نہیں کرتا اس لئے صاحب شکر بندہ بنیں اور یہی سچائی ہے، یہی تو حید کامل ہے جس پر جماعت کو ہمیشہ قائم رہنا چاہئے۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔