خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 783
خطبات طاہر جلد ۱۰ 783 خطبہ جمعہ ۲۷ ستمبر ۱۹۹۱ء بہت سے لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ اس ہلاکت سے بچاتا ہے لیکن یہ روزمرہ کی ایک عام انسانی نفسیات سے تعلق رکھنے والا مسئلہ ہے۔ایک انسان کسی مشکل میں مبتلا ہوا اور دعا بھی کی اور ہاتھ پاؤں بھی مارے اور کوئی نہ کوئی تدبیر کہیں چل گئی یا وہ یہ سمجھا کہ اتفاق سے میرا ایک ایسا دوست آگیا جس کو مدت سے جانتا تھا لیکن تعلق نہیں رہا تھا وہ موقع پر آ گیا اور میں نے اس سے بات کر لی اور جب وہ مصیبت ٹل گئی تو اس کی تعریف جو ہے یاوہ دوست تک ختم ہو جائے گی یا اپنی ہوشیاری تک۔میں اگر اس وقت اس سے بات نہ کرتا تو شاید میرا مسئلہ بھی حل ہی نہ ہوتا۔اس کو یہ خیال نہیں آتا کہ جو دعا کی تھی اس کے نتیجے میں خدا مسبب الاسباب ہے۔یہ کیوں نہیں سوچا اس نے کہ خدا نے دوست تو بھجوا دیا جس سے کبھی ملاقات نہیں رہی تھی ، خدا نے بروقت اس کے دل میں خیال پیدا کیا کہ یوں ہو گیا ہوگا۔ایک ایسی فیملی جس کو کسی ملک کا ویزاملنا مشکل تھا کیونکہ وہ مومن فیملی ہے، مومن خاندان ہے یعنی دل کے لحاظ سے عقل کے لحاظ سے اس لئے میں ان کی مثال دیتا ہوں۔ان کی سوچ مختلف تھی اس موقع پر اور اپنی مومنانہ سوچ ہے۔ایک ایسی جگہ کا ویزا لینے کے لئے جہاں ایمبیسیز نے راستے بند کئے ہوئے تھے کسی احمدی کو ویزا نہیں دیتی تھیں۔انہوں نے کوشش کی اور آخر خیال آیا کہ بے دلی سے، یعنی کوشش تو نہیں کی لیکن پتا کیا تو پتا لگا کہ کوئی امکان نہیں ہے۔ان کے میاں نے یونہی بے دلی سے اپنے ایک دوست سے ذکر کیا کہ خواہش تو بہت تھی میرے بچے وہاں چلے جائیں لیکن کوئی صورت نہیں ہے۔اس دوست نے کہا کہ صورت کیسے نہیں ابھی جاؤ اور جاکے درخواست دے دو اور دیکھو پھر کیا ہوتا ہے۔انہوں نے جا کر درخواست دی، بغیر انٹرویو کے، بغیر کسی سوال جواب، بغیر بیوی بچوں کو بلائے سب کا ویزا فور دے دیا۔اب اگر مكْرُ فِي آيَاتِنَا کی سوچ ہوتی تو دماغ صرف اسی دوست تک ٹھہرتا کہ دیکھو کتنا عظیم الشان دوست تھا کیسے موقع پر کام آیا لیکن چونکہ مومنانہ سوچ تھی انہوں نے شروع سے آخر تک یہی کہا کہ اللہ تعالیٰ کی شان دیکھیں جب وہ کسی بندے کے لئے تدبیر کرتا ہے تو کس طرح تدبیر کرتا ہے۔وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ اس دوست سے ہمیں کوئی خیر پہنچے گی اور بغیر کسی تدبیر کے بغیر کسی توقع کے بغیر اس علم کے کہ اس کا اس امریکی سے کوئی دور کا بھی تعلق ہے۔یونہی بے دلی کی سی بات تھی جو کر دی۔چھوڑیں جی چھوڑیں وہاں ہم کیسے جا سکتے ہیں وہاں تو کسی احمدی کو ویزا ملنے کا سوال ہی نہیں اور معلوم ہوتا ہے اس دوست کا ایمبیسی میں کسی شخص سے گہرا تعلق تھا