خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 777 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 777

777 خطبہ جمعہ ۲۷ ستمبر ۱۹۹۱ء خطبات طاہر جلد ۱۰ اور یہ کہا کہ ہمارے لئے دعا کرو کیونکہ اب اس بلا کو تمہاری دعا کے سوا کوئی چیز ٹال نہیں سکتی اور جب وہ بلائل گئی تو اِذَالَهُمْ مَّكْرُ فِي آيَاتِنَا کا دور شروع ہوا اور انہوں نے دل میں سوچا کہ ہم نے کیا بیوقوفی کی تھی یہ تو ایک روز مرہ کا ہونے والا حادثہ تھا۔ایک ایسا واقعہ تھا جو انسانوں کے ساتھ پیش آتا ہی رہتا ہے۔کبھی دریاؤں کے پانی گدلے ہو جاتے ہیں، کبھی مینڈک بڑھ جاتے ہیں، کبھی جوئیں کثرت سے پھیل جاتی ہیں یہ تو روز مرہ کے ہونے والے واقعات ہیں۔ان کا موسیٰ علیہ السلام کی دعا سے کیا تعلق ہے؟ چنانچہ ان کا جو مکر ہے وہ آیات میں شروع ہو گیا۔یعنی دیکھی تو انہوں نے آیات تھیں خدا کی کھلی کھلی نشانیاں دیکھی تھیں لیکن ان نشانیوں کو دنیا کی طرف منسوب کرنے لگے اور پھر جب دوبارہ کسی بلانے پکڑا پھر بعینہ وہی حرکت کی۔پھر حضرت موسیٰ کی طرف دوڑے، پھر دعائیں کروائیں اور پھر اللہ تعالیٰ نے ان دعاؤں کے نتیجے میں جب اس بلا کو ٹال دیا تو پھر دوبارہ وہی آیات کے ساتھ مکر کا دور شروع ہو گیا۔قرآن کریم فرماتا ہے کہ نو مرتبہ ایسا ہوا۔نو مرتبہ موسیٰ کی بیان کردہ وعید سے تعلق رکھنے والی یعنی انذاری پیشگوئیاں پوری ہوئیں اور ہر بار یہاں تک کہ قوم ہلاک کر دی گئی۔مسلسل وہ اسی طرح حضرت موسیٰ کے ساتھ اور خدا تعالیٰ کی آیات کے ساتھ سلوک کرتے رہے۔غمگین اور یہی حال بد قسمتی سے آجکل پاکستان کا ہو رہا ہے اور دن بدن یہ صورتحال زیادہ ملین اور خوفناک اور پیچیدہ ہوتی چلی جارہی ہے۔یہ عجیب بات ہے جسے وہ شاید مل کر سوچتے بھی ہیں کہ نہیں کہ جب سے Islamisation کا نام شروع ہوا ہے یعنی ملک کے اندر اسلام کو جاری کرنا اور یہ ضیاء الحق صاحب کے دور کا قصہ ہے وہاں سے بات چلی ہے۔جب سے ساری قوم نے بحیثیت قوم اسلام کے نام پر خدا کو خوش کرنے کی کوششیں شروع کی ہیں مسلسل اللہ تعالیٰ کے عذاب اس قوم پر نازل ہوتے چلے جارہے ہیں اور جگہ جگہ سے بلائیں ان کو گھیر تی چلی جارہی ہیں۔کوئی انسانی زندگی کا ایسا پہلو نہیں ہے جس میں امن رہ گیا ہو، کوئی انسانی تعلقات کا ایسا دائرہ نہیں ہے جو گندہ نہ ہو چکا ہو۔ہر وہ شہری جو پاکستان میں کسی پہلو سے زندگی بسر کر رہا ہے اس کے کوئی نہ کوئی حقوق کسی اور نے ساب کئے ہوئے ہیں۔اگر کسی شخص نے نہیں کئے تو حکومت نے سلب کئے ہیں، حکومت نے نہیں کئے تو کسی قوم نے کر لئے ہیں۔کسی نہ کسی پہلو سے ہر شخص محسوس کرتا ہے کہ وہ آزادی سے سانس نہیں لے رہا