خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 776
خطبات طاہر جلد ۱۰ 776 خطبہ جمعہ ۲۷ ستمبر ۱۹۹۱ء فرماتے ہیں۔بندوں کا ترجمہ شاید درست نہیں الناس ہے یعنی لوگوں کو قطع نظر اس کے کہ وہ خدا کے بندے بنے کی اہلیت رکھتے ہیں کہ نہیں عمومی نقطہ ہے۔تو یوں کہنا چاہئے کہ جب ہم انسانوں کو ، بنی نوع انسان کو اپنی رحمت کا لطف چکھاتے ہیں بعد اس کے کہ ان کو کوئی مصیبت آپڑی ہو إِذَالَهُمْ مَّكْرُ فِي آيَاتِنا پھر وہ ہماری آیات میں مکر کرنے لگ جاتے ہیں۔قُلِ اللهُ أَسْرَعُ مَكْرًا ان سے کہہ دے کہ اللہ تعالیٰ تدبیر کرنے میں سب سے زیادہ تیز ہے۔اِن رُسُلَنَا يَكْتُبُونَ مَا تَمْكُرُونَ ہمارے بھیجے ہوئے ، ہمارے رسول ، ہمارے فرستادہ لوگ وہ سب باتیں لکھ رہے ہیں جو تم مکر کے طور پر کرتے ہو۔إِذَا أَذَقْنَا النَّاسَ رَحْمَةً مِنْ بَعْدِ ضَرَّاءَ مَسَّتْهُمْ یعنی ایسا گہرا انسانی فطرت کا فلسفہ بیان ہوا ہے جس کا صرف مذہبی دنیا ہی سے نہیں بلکہ عام انسانی دلچسپیوں کے ہر دائرے سے تعلق ہے۔ایک انسان جب کسی مصیبت میں مبتلا ہوتا ہے تو اس کے لئے اندھیرا ہی اندھیرا ہوتا ہے اور کچھ دکھائی نہیں دیتا اور بسا اوقات انسان سمجھتا ہے کہ میں تو گیا۔بڑی بڑی مصیبتیں تو الگ بات ہے میں نے دیکھا ہے کہ چھوٹی سی بیماری بھی بعض لوگوں کو اس طرح مغلوب کر دیتی ہے کہ معمولی بیماری سے بھی یہ خود اپنے نفس میں افسانے گھڑتے رہتے ہیں۔کسی کو کینسر ہو جاتا ہے،کسی کو کوئی اور گہری بیماری پکڑ لیتی ہے یعنی اپنے فرضی خیالوں میں ہی اور وہم ہیں کہ پیچھا ہی نہیں چھوڑتے اور پھر انسان یہ سوچتا ہے کہ مجھ سے یہ غلطیاں بھی ہوئی، یہ غلطیاں بھی ہوئیں آئندہ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے نجات بخشی ،صحت عطا فرمائی تو میں یہ کروں گا، یہ کروں گا۔تو انسانی دلچسپی کے ہر دائرے سے اس گہری نفسیاتی سوچ کا تعلق ہے کہ جب انسان مشکل میں مبتلا ہوتو بسا اوقات مشکل اس پر اس قدر غالب آ جاتی ہے کہ اسے نجات کی کوئی راہ دکھائی نہیں دیتی اور جب خدا تعالیٰ اس مشکل کو دور فرما دیتا ہے تو فرمایا اس کے بعد إِذَا لَهُمْ مَّكْرُ فِي آيَاتِنَا پھر وہ ہماری آیات میں مکر کرنے لگ جاتے ہیں۔یہ مضمون مذہبی دنیا پر بھی بڑی صفائی اور گہرائی کے ساتھ اطلاق پاتا ہے اور دنیا وی معاملات میں بھی۔مذہبی دنیا میں اس طرح کہ قرآن کریم نے ہمیں فرعون کے زمانے کے واقعات بتائے ہیں ان سے پتا چلتا ہے کہ بار بار فرعون کی قوم کو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ الصلوۃ والسلام کی پیشگوئیوں کے عین مطابق پکڑا اور جب ان کی پکڑ آئی تو وہ حضرت موسیٰ کی طرف بار بار دوڑے