خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 772
خطبات طاہر جلد ۱۰ 772 خطبہ جمعہ ۲۰ ستمبر ۱۹۹۱ء اللہ تعالیٰ کہے کہ أَلَا إِنَّهَا قُرُبَةٌ لَّهُمْ کہ دیکھو دیکھواللہ کی تو قربت عطا ہو چکی ہے۔اس کے بعد وہ یہ سوچیں کہ اور مزید بھی اس سے کچھ کمائی کریں اور یہ دیکھیں کہ کہاں خرچ ہوا کتنا خرچ ہوا اور ہمارے اوپر کیوں اتنا خرچ نہیں ہوا۔یہ ایسے فتنے ہیں جنہیں کبھی جماعت میں قبول نہیں کیا جائے گا اور داخل نہیں ہونے دیا جائے گا۔ایسے لوگوں کو میں کہہ دیتا ہوں کہ تم اپنے روپے اپنے پاس رکھو۔یہ جہنم میں پھینکنے کے قابل تو ہیں لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جماعت ان سے استفادہ نہیں کر سکتی۔آنحضرت ﷺ نے مالی قربانی کی جو جنت مسلمانوں کو عطا کی ہے یہ روپیہ اس میں داخل ہونے کے لائق نہیں ٹھہرتا۔اس قسم کے بھی بے وقوفوں والے فتنے کئی دفعہ پیدا ہوتے ہیں۔ابھی حال ہی میں ایک جگہ پیدا ہوا ہے اور میں نے ان کو یہی کہلا بھیجا ہے کہ تم تمہاری ساری عاملہ، تمہارے سارے چندہ دینے والے ایک آنا بھی سلسلہ کو نہ دو کیونکہ میرے نزدیک اگر ان خیالات کے ساتھ چندہ دینا ہے تو مردود چندہ ہے۔ایسے چندے کے اوپر جماعت تھوکتی بھی نہیں ہے تم اور تمہارے جیسے لوگ جہاں چاہیں ان روپوں کو پھینکیں جماعت ان سے کبھی کچھ قبول نہیں کرے گی وہ لوگ جنہوں نے قادیان میں قربانیاں دی تھیں وہ غریب عورتیں جن کا وظیفوں پر گزارہ تھا اور ان وظیفوں سے بچ بچا کر چندے دیتی تھیں ان کے چندے یہاں مسجد فضل پر خرچ ہوئے ہیں۔ایک ایسا بھی دور تھا کہ جب عورتوں نے قربانیاں دیں تو یہاں چندے خرچ ہوئے اور کبھی کسی عورت نے مڑ کر نہیں پوچھا کہ ہم غریب، ہم فاقہ زدہ ہم کمزور لوگ لیکن تم اس غلام ملک کی اتنی قربانیوں کے چندے اٹھا اٹھا کر اس امیر ملک میں خرچ کر رہے ہو جو تمام دنیا کی دولتیں سمیٹ رہا ہے۔اشارہ بھی کبھی کسی نے یہ سوال نہیں اٹھایا جس نظام پر اعتماد ہے۔جس خلافت سے وابستگی اختیار کی ہے اس کے ساتھ تعلقات تو کامل اعتماد پر چلتے ہیں۔جہاں اعتماد ختم وہاں چندوں کا نظام ہی ختم ہو گیا۔وہاں یہ تعلق ہی قائم نہیں رہا کرتا۔پس مالی نظام میں بھی قرآن کریم نے دنیا کا بہترین مالی نظام ہمارے سامنے رکھا ہے تفصیل کے ساتھ ہمیں اس کے حسن و فتح کو سمجھا دیا ہے ان خطرات کی نشاندہی کر دی ہے جن میں بعض لوگ مبتلا ہو جاتے ہیں وہ نمونے قائم فرما دیئے ہیں جن نمونوں کو دائمی قرار دیا اور فرمایا یہ وہ لوگ ہیں جن کی بعد میں آنے والے قیامت تک پیروی کرتے رہیں گے اور قیامت تک ان کا فیض اٹھاتے رہیں گے۔اس کے بعد جماعت احمدیہ میں بعض جاہلوں کا اس قسم کے فتنے اٹھانا ہرگز قابل