خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 771
خطبات طاہر جلد ۱۰ 771 خطبہ جمعہ ۲۰ ستمبر ۱۹۹۱ء کی تحریک ہے ان میں چندہ دینے والا ایک غرض کے ساتھ چندہ دیتا ہے اور وہاں جماعت کا فرض ہے کہ اس غرض کے ساتھ چندے کے خرچ کو مشروط رکھے اور یہی جماعت کرتی ہے لیکن یہ اپنی ذات میں کوئی بری بات نہیں جس غرض کے لئے کوئی انسان کہتا ہے میں عام چندہ بھی دوں گا اور زائد میں یہ فلاں غرض کے لئے دینا چاہتا ہوں اس میں کوئی برائی نہیں ہے لیکن بعض دفعہ بعض لوگ بعض ایسی شرطیں عائد کر دیتے ہیں کہ اس کو اس طرح تقسیم کیا جائے ، اس طرح خرچ کیا جائے ، اس طرح اس کی حفاظت کی جائیان لوگوں کو میں کہتا ہوں کہ پھر تم خود کرو، میں تو نہیں قبول کروں گا۔اگر تمہیں نظام جماعت پر اعتماد ہے تو شوق سے یہ رقم نظام جماعت کے سپرد کر دو۔مقصد بتادو اور اس مقصد کے بتانے کے بعد مطمئن رہو کبھی دل میں وہم پیدا ہو تو بے شک پوچھ بھی لو کہ اس پر خرچ ہوا کہ نہیں۔تمہیں بتایا جائے گا لیکن یہ کہ باریکیاں بتاؤ کہ اس تفصیل سے اس طرح طے کریں یہ نظام مقرر کیا جائے یہ نہیں ہوسکتا لیکن میں آپ کو یہ سمجھا رہا ہوں کہ آنحضور صلی ہے کے زمانے میں لوگ چندہ دیتے تھے اور اس بات کا کبھی تذکرہ نہیں کرتے تھے کہ فلاں جگہ فلاں طریق پر خرچ کیا جائے۔یہ حضرت اقدس محمد رسول اللہ ﷺ یا آپ کے نمائندوں کا کام تھا کہ جس طرح چاہیں اس کو خرچ کرتے تھے لیکن خرچ ان ہی جگہوں پر ہوتا تھا جو دین کی اغراض ہیں۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے زمانے میں بھی یہی طریق جاری رہا۔انجمن بن بھی گئی تب بھی کوئی مجلس شوری قائم نہیں تھی اور انجمن کے سپرد کر دیا جا تا تھا۔انجمن کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی ہدایات تھیں کہ ان ہدایات کے تابع خرچ کرو لیکن کبھی کسی چندے والے نے یہ نہیں کہا یا کسی جماعت نے یہ نہیں کہا کہ ہم نے اتنا چندہ دیا ہے اور تم لوگ اتنا فلاں جگہ خرچ کر رہے ہو اور ہم پر کم کر رہے ہو یہ ایک ایسا جاہلانہ اور باطل خیال ہے جس کے ساتھ چندوں کی روح برباد ہو جاتی ہے۔اول تو جیسا کہ میں نے کہا جب چندہ خدا کی قربت کی خاطر یا امام کی دعائیں لینے کے لئے دیا،۔سب سے بڑی بات یہ ہے کہ حضرت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی دعائیں لینے کے لئے دیا۔امام تو میں ان معنوں میں کہہ دیتا ہوں کہ آپ کی غلامی میں یہ مضمون بعد میں جاری رہتا ہے لیکن وہ اصل صلوت محمد رسول اللہ کی ہیں جو آج بھی ان لوگوں کو پہنچتی رہیں گی کیونکہ آپ کا زمانہ جاری ہے اور آپ نے ہر زمانہ کے مخلصین کے لئے دعائیں کی ہیں اس لئے اتنے بڑے مقصد کو پالینے کے لئے جس کے جواب میں