خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 770
خطبات طاہر جلد ۱۰ 770 خطبہ جمعہ ۲۰ ستمبر ۱۹۹۱ء ہے تو دماغ میں اعتقادات کی جو جڑیں ہیں ان پر بھی زلزلہ آتا ہے وہ بھی اکھڑتی ہیں اور یہ نہیں ہوسکتا کہ درخت کا اوپر والا حصہ ہی جھولتا ر ہے اور جڑوں کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔بعض دفعہ جڑوں کی بیماریاں اوپر چلی جاتی ہیں، بعض دفعہ اوپر کے ابتلا نیچے داخل ہو جاتے ہیں مگر جماعت کا مالی نظام بہت ہی مقدس نظام ہے اس کا تعلق گہرے غیر متزلزل اعتقادات سے بھی ہے اور بہت ہی پر خلوص محبت کے جذبات سے بھی ہے۔ہمیں اس نظام کی بہر حال ہر قیمت پر حفاظت کرنی ہے اور اگر کوئی اس کے اوپر پورا نہیں اتر تا تو جماعت کے مالی نظام کو ذرہ بھی نقصان نہیں ہوگا۔یہ میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ ہزار بھی ایسے افراد ہوں کتنے ہی امیر ہوں اگر وہ نا قدری کی وجہ سے جماعت کے مالی نظام میں حصہ لینے سے محروم ہو جاتے ہیں تو خدا تعالیٰ جماعت کی ضروریات میں کبھی کمی نہیں کرے گا، نہ آج تک ہوئی ہے۔اس ضمن میں ایک اور بہت ہی ضروری سمجھانے والی بات یہ ہے کہ جب ہم خدا کی راہ میں خدا کی مرضی کی خاطر چندہ دے بیٹھے اور قربت پیش نظر ہے یا امام کی دعائیں پیش نظر ہیں تو سودا تو نقد نقد پورا ہو گیا جس خاطر سودا کیا تھا تمہیں قیمت مل گئی۔اس کے بعد تمہارا یہ حق نہیں رہتا کہ ہماری جماعت نے اتنا چندہ دیا ہے اس لئے ہماری جماعت پر اتنا خرچ کیا جائے ہمارے ملک نے اتنا چندہ دیا ہے اس کو کسی اور ملک پر خرچ نہ کیا جائے۔مجلس شوری کے ذریعے بجٹ بنانے کا جو یہ نظام ہے یہ بھی ایک طوعی نظام ہے ورنہ آنحضرت ﷺ کے زمانے میں یہ بھی نہیں تھا۔قرآن کی مالی قربانی کی روح یہ ہے کہ چونکہ تم خدا کی خاطر خدا کے نمائندے کے سپر د مال کرتے ہو جس پر تمہیں کامل اعتماد ہے اس لئے جب تک یہ اعتماد قائم ہے تمہارا دل پوری طرح مطمئن ہوگا کہ جو کچھ ہم نے دیا ہے اور جس غرض کے لئے دیا ہے۔وہیں خرچ ہوگا لیکن غرضوں کی تعیین کرنے میں تم کوئی حصہ نہیں لو گے، یہ شرط نہیں ہے کہ تم یہ بتاؤ کہ اس کو فلاں جگہ ضرور خرچ کیا جائے یہ اور بات ہے۔ایک اور بات ہے جس کی میں یہاں وضاحت کردوں تا کہ بعض دوست غلط فہمی میں مبتلا نہ ہوں۔وہ چندے جو بالعموم خدا کے نام پر دیئے جاتے ہیں ان کے بجٹ کی میں بات کر رہا ہوں۔بعض مخصوص تحریکات ہوتی ہیں۔مثلاً روس کے لئے ہے،افریقہ کے لئے ہے،افریقہ کے بھوکوں کے لئے مدد کی تحریک ہے۔وغیرہ وغیرہ قرآن کریم کی اشاعت کی تحریک ہے، مساجد کی تعمیر