خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 769
خطبات طاہر جلد ۱۰ 769 خطبہ جمعہ ۲۰ ستمبر ۱۹۹۱ء ہے۔کون ہے جواس وعدے پر پورا رہے اور صرف فرائض تک ٹھہر جائے اور نوافل کے ذریعے فرائض کی حفاظت ضروری نہ سمجھے اور پھر اس میں کامیاب ہو۔کوئی غیر معمولی انسان ہی ہو سکتا ہے مگر غیر معمولی انسانوں کو تو پھر نوافل کی توفیق بھی ملتی ہے۔صلى الله پس اللہ تعالیٰ نے جو مالی نظام جاری فرمایا ہے اس کے مضمون کو سمجھنا چاہئے۔وہ لوگ جو نوافل پر بھی اعتراض شروع کر دیتے ہیں ان کا وہ مضمون نہیں ہے جس نے رسول اللہ ﷺ سے بات کی تھی۔وہ ایک سادہ انسان تھا اس نے کھول کر کہا کہ باقیوں کیلئے بے شک ہو مجھے اس پر اعتراض نہیں ہے۔میں یہ بحث نہیں کرتا کہ ان کی ضرورت نہیں ہے۔میں تو صرف یہ عرض کر رہا ہوں کہ اگر میں وہ زائد باتیں نہ کروں تو میں روحانی لحاظ سے مر جاؤں گا یا زندہ رہوں گا آپ نے فرمایا: تم مرتے نہیں۔اس نے کہا کہ بس پھر میرے لئے زندگی کے سانس کافی ہیں۔مجھے مزید تکلفات کی ضرورت نہیں ہے۔مگر جن دانشوروں کی میں بات کر رہا ہوں یہ لوگ اس نفلی نظام پر اعتراض کرتے ہیں اور زبانیں کھولتے ہیں۔کہتے ہیں یہ کیا سلسلہ شروع ہو گیا ہے نئی نئی تحریکیں نئے نئے قربانیوں کے رستے ، یہ ہونا ہی نہیں چاہئے ہم اس لئے ان سے باز آتے ہیں کہ ہم ان کے قائل ہی نہیں ہیں۔ہم ان کو درست ہی نہیں سمجھتے۔اگر ایسی بات ہے اور کوئی شخص احمدی عوام میں اس قسم کا اظہار رائے کرتا ہے تو وہ فتنہ پرداز ہے۔اپنی ذات میں وہ بے شک نفلی چندہ نہ دے۔اگر وہ فرض چندہ بھی نہ دے تو احمدی پھر بھی رہتا ہے۔زیادہ سے زیادہ اس کا اتنا نقصان ہوگا کہ ووٹ کے نظام میں وہ شامل نہیں ہوگا۔نہ ووٹ دے سکے گا نہ عہد یدار بن سکے گا اور چھٹی اور اس کو مصیبت سے رہائی۔اس کو کیا فرق پڑتا ہے لیکن جب وہ سلسلے کے کسی نظام کے متعلق باتیں کرے گا تو وہ پھر منافق ہے اس سے لازمی چندے بھی نہیں لینا چاہئے اور جہاں کوئی ایسا شخص ہے جو یہ کہتا ہے کہ نظام جماعت میں فلاں فلاں چندے اضافہ ہو گئے ہم اس کے قائل ہی نہیں ہیں تو میری طرف سے نظام جماعت کو اجازت ہے کہ اس کو کہہ دیں کہ تم بے شک اب اپنے چندے نہ دو ہمیں تمہارے مال کی ضرورت نہیں ہے۔نظام جماعت میں جو مالی حصہ ہے یہ اس پہلو سے بہت ہی مقدس ہے کہ اس کی تمام تر جڑیں مومنوں کے اعلیٰ اعتقادات میں ہیں اور گہرے پر خلوص قلبی جذبات میں ہیں۔یہ کوئی نیا سیشن کا نظام نہیں ہے۔اگر اس درخت پر زلزلہ آتا