خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 768
خطبات طاہر جلد ۱۰ 768 خطبه جمعه ۲۰ ستمبر ۱۹۹۱ء جانے اور تفصیل سے جائزے لینے کا موقعہ ملا ہے۔بات یہ ہے کہ ان کو ایک بات سے تکلیف ہوتی ہے کہ دوسرے لوگ جب بڑھ بڑھ کر طوعی چندے دیتے ہیں اور ان کا دل نہیں کھلتا تو ان کو شرمندگی محسوس ہوتی ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ سوسائٹی میں ہمارا مقام نگا ہو جائے گا اور لوگوں کو پتہ لگے گا کہ یہ تو حصہ نہیں لیتا جبکہ دوسرے لے رہے ہیں یہ لبیک کہنے میں پیچھے ہے تو اس کے نتیجے میں اس پر پردہ ڈالنے کی خاطر وہ فلسفہ بنا لیتے ہیں کہ جی ہم اس کے قائل ہی نہیں یہ ہے ہی بکواس۔یہ سارا سسٹم ہی غلط ہے۔ان نئی نئی باتوں کے ہم قائل نہیں۔ہم تو وہی بنیادی چندے کے قائل ہیں آگے کو نہیں بڑھیں گے۔اگر وہ جماعت میں غلط پرو پیگنڈا نہ کریں اپنی خفت مٹانے کے لئے جھوٹے اعتراض نہ بنا ئیں اور صرف یہ کہہ دیا کریں کہ ہمیں اتنے کی توفیق ہے تو اس پر کوئی حرج نہیں یہ جائز ہے اور اس پر کسی کو حق نہیں کہ ان پر اعتراض کرے۔آنحضرت ﷺ کے پاس ایک اعرابی آیا۔اس نے کہا یا رسول اللہ ! مجھے یہ بتائیے کہ دین بنیادی طور پر ہے کیا ؟ کیا میں کروں تو میں مسلمان بن جاؤں گا۔آپ نے کچھ فرائض بتائے اس کے بعد آپ نے نوافل کا مضمون شروع کیا تو اس نے کہا کہ ان کے بغیر دین مکمل نہیں ہوگا ؟ کیا میں خدا کے حضور پکڑا جاؤں گا ؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : نہیں جو فرائض بتا دیئے ہیں اگر صرف اتنا کر لو تو پکڑے نہیں جاتے۔اس نے کہا: بس میرے لئے بہت کافی ہے۔مجھے آگے جانے کی ضرورت نہیں۔آپ نے فرمایا: اگر تم عہد میں بچے ہوتو جاؤ کوئی فکر نہیں لیکن یاد رکھنا چاہئے۔یہ انسانی فطرت کی بات ہے جو صرف فرائض تک رہتے ہیں ان میں کشن Coshion کوئی نہیں ہوتا ان میں ابتلاؤں اور مشکلوں کے وقت جو ٹھوکر سے بچنے کے لئے درمیان کا دبیز حصہ ہے وہ نہیں پایا جاتا۔جس طرح شیشے کے برتن آپ کسی جگہ بھیجیں اور ایسے کاغذ وغیرہ کے بغیر اس کو بھیج دیں جو باہر کی دیوار اور برتنوں کے درمیان ایک روک بن جاتا ہے تو اس کے ٹوٹنے کا بہت زیادہ احتمال ہے تو اسی طرح انسان کے ایمانیات کی اور اعمال کی حالت ہوتی ہے۔سنتیں اور نوافل اس کے بنیادی اعمال کی حفاظت کرتے ہیں اور اگر کہیں کمزوری واقعہ ہوتی ہے کوئی ابتلاء آتا ہے تو اس کا بوجھ سنتوں اور نوافل کی دیوار میں اٹھا لیتی ہیں اور اس کے فرائض قائم رہتے ہیں۔پس اس شخص نے بہت بڑی بات کی تھی جس نے یہ کہا کہ میرے لئے بہت کافی ہیں اور آپ نے فرمایا کہ ہاں اگر تم اپنے وعدے پر پورے رہتے ہو تو پھر کوئی خطرہ نہیں مگر بہت بڑا اگر“