خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 767
خطبات طاہر جلد ۱۰ 767 خطبہ جمعہ ۲۰ ؍ ستمبر ۱۹۹۱ء خوب اچھی طرح خبر دار ہونا چاہئے جن دلوں میں یہ باتیں پیدا ہوتی ہیں ان کا کام ہے کہ خود اپنی نگرانی کریں کیونکہ بیرونی طور پر کوئی ایسا نظام نہیں ہے جسے یہ اجازت ہو کہ وہ کسی کو یہ کہہ سکے کہ تم نے جبر کے ساتھ قربانی دی ہے، تمہارے دل میں کراہت تھی۔یہ کہنے کا کسی کو حق نہیں ہے، سوائے اس کے کوئی کراہت کا اظہار کرتا ہے اور بعض ایسے بدنصیب ہیں جو کر دیتے ہیں۔ان کے متعلق جب اطلاع ملتی ہے ہمیشہ میں یہی کہتا ہوں کہ ان سے کبھی چندہ نہ لیا جائے کیونکہ نظام جماعت میں کوئی جبر نہیں ہے لیکن جب چندہ لینے والے جاتے ہیں تو بعض کہتے ہیں کہ کیا تم نے مصیبت ڈالی ہے ہر روز آ جاتے ہو ، یہ چندہ ، وہ چندہ بعض لوگ مجالس لگاتے ہیں اور کہتے ہیں جی کتنی قسم کے چندے ہو گئے ہیں۔یہ کیا نظام ہے؟ ایک سیدھا چندہ عام رکھیں وصیت رکھیں جو مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جاری فرمایا۔یہ آئے دن کے نئے چندے ایجاد کرنے کا کیا موقعہ ہے حالانکہ آئے دن کی ضرورتیں آئے دن کے چندوں سے ہی پوری ہوں گی اور چندہ میں کوئی جبر نہیں ہے۔خدا کے نام پر اپیل کی جاتی ہے، ان لوگوں کے دلوں کو مخاطب کیا جاتا ہے جو پہلے ہی اس تمنا میں رہتے ہیں کہ خدا کی رہ میں قربانی والی کوئی آواز اُٹھے اور ہم پھر لبیک کہیں اور پھر اس سے لطف اندوز ہوں۔تو وہ لوگ جن کے دل میں لازمی چندوں سے کسی قسم کی کراہت پائی جاتی ہے یا طوعی تحریکات میں وہ اپنے دلوں پر بوجھ محسوس کرتے ہیں ان کو اپنا تجزیہ کرنا چاہئے اور شروع میں ہی اپنی پہچان کر لینی چاہئے۔وہ بعض دفعہ اس وجہ سے طوعی چندوں پر اعتراض کرتے ہیں حالانکہ اس میں کسی قسم کا بھی جبر نہیں۔لازمی چندے میں بھی جبر نہیں ہے لیکن لفظ لازم نے اس کے اندر ایک خاص سنجیدگی پیدا کر دی ہے جس کی وجہ سے انسان سمجھتا ہے کہ یہ چندہ تو دینا ہی دینا ہے لیکن جس کو طوعی کہا جاتا ہے اس کا تو مضمون ہی یہ ہے کہ دینا ہے تو دو نہیں دینا تو نہ دو، قطعاً کوئی حرف نہیں، کوئی اعتراض نہیں۔سلسلہ کے عہدوں کا جہاں تک تعلق ہے ووٹ کا تعلق ہے تمہارے حقوق کا تعلق ہے ایک ذرہ بھی اثر انداز نہیں ہوں گے اگر تم لازمی چندے دے دیتے ہو تو اتنا کافی ہے یعنی کافی ان معنوں میں کہ تمہارے بنیادی حقوق جو جماعت کے ساتھ وابستہ رہ کر تمہیں ملنے چاہئیں وہ سارے ملیں گے لیکن اس کے باوجود ان کو طوعی چندوں پر اعتراض ہے۔اس کا مطلب ہے کہ کراہت کا مضمون داخل ہو چکا ہے اور شروع ہو گیا ہے۔میں نے اس پر غور کر کے دیکھا ہے کیونکہ مجھے بھی بہت سی جماعتوں میں چندوں سے متعلق