خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 766
خطبات طاہر جلد ۱۰ 766 خطبہ جمعہ ۲۰ ستمبر ۱۹۹۱ء لئے نمونہ بنا ئیں۔نہ صرف یہ کہ وہ نیکیوں پر نظر رکھتے ہیں بلکہ نیکیوں میں سے بھی بہترین پر، ان کی نگاہ اونچی ہوتی ہے اور وہ ان میں سے جو بہترین ادا ئیں کرنے والے خدا کی محبت میں مبتلا ، خدا کی محبت میں گرفتار عشاق محمد مصطفے تھے ان کی پیروی کرتے ہیں ان اداؤں میں جو ان کے اندر بہترین ہیں اور ان کی ذات میں درجہ کمال رکھتی ہیں۔اس مضمون نے ایک پہلو تو ہمیشہ کے لئے مردو د فرما دیا یعنی بعض لوگ جو یہ کہتے ہیں کہ فلاں شخص نے جو اس عہدہ پر تھا اور اس مقام پر تھا اس نے فلاں بدی کی تو ہم نے بھی کر لی تو کیا فرق پڑتا ہے۔اس کو کیوں نہیں پکڑتے۔اس مضمون کو اس آیت نے ہمیشہ کے لئے مردود کر دیا ہے۔فرمایا ہے پیروی کرنے والوں کو ہرگز یہ حق نہیں ہے کہ ادنی کی پیروی کریں چاہے وہ اعلیٰ سے سرزد ہوا ہو۔ادنی فعل اگر اعلیٰ سے بھی سرزد ہوا ہو تو قرآن تعلیم کے مطابق وہ پیروی کے لائق نہیں رہتا اس لئے اس کا حوالہ دیا ہی نہیں جاسکتا حوالہ دینا ہے اور حوالہ تلاش کرنا ہے تو اپنے لئے حسن کا حوالہ دو اور حسن کا ہی حوالہ تلاش کرو۔حسن پیدا کرنے کی خاطر کام کرو اور حسن میں جو سب سے اعلیٰ درجے کا حسن ہے اس کی پیروی کرنے کی کوشش کرو۔فرمایا ان کی جزاء یہ ہے کہ رضِيَ اللهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ ان سے خدا ہمیشہ کے لئے راضی ہوگیا وَرَضُوا عَنْهُ اور وہ ہمیشہ کے لئے اللہ سے راضی ہوئے وَأَعَدَّ لَهُمْ جَنَّتٍ تَجْرِى تَحْتَهَا الْأَنْهرُ ان کے لئے خدا نے ایسی جنتیں بنارکھی ہیں جن میں دائگی نہریں بہتی ہیں اور وہ ہمیشہ ہمیش کے لئے اس میں رہیں گے۔ذلِكَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ ایک بہت ہی بڑی کامیابی ہے۔یہ مالی قربانی کی وہ روح ہے جس کا صرف ایک پہلو یہاں بیان ہوا ہے اس کے علاوہ مختلف پہلوؤں سے مالی قربانی کے نظام کو خدا تعالیٰ نے کھول کھول کر بیان فرمایا ہے اور اس کے حسن و فتح کو بڑی تفصیل کے ساتھ واضح فرما دیا ہے۔جماعت احمدیہ میں بعض لوگ اگر چہ چندے ادا کرنے میں وقت محسوس کرتے ہیں اور بعض بوجھ بھی محسوس کرتے ہوں گے مگر چونکہ جبر کا نظام نہیں ہے اور حکومت نہیں ہے اس لئے جب تک وہ اس اندرونی تر ڈو کے باوجود مالی قربانی میں حصہ لے رہے ہیں ان کے اوپر ہم حرف نہیں رکھ سکتے کیونکہ ان کے متعلق یہ نہیں کہا جاسکتا کہ انہوں نے اکراہ کے ساتھ قربانی کی ہے۔اگر چہ کچھ نہ کچھ جبر کا پہلوان کے اندر پیدا ہو جاتا ہے اور اس کے آغاز کے وقت انسان کو