خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 753 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 753

خطبات طاہر جلد ۱۰ 753 خطبہ جمعہ ۱۳ ستمبر ۱۹۹۱ء کی وجہ سے ان کے ایمان سے کھیلنے لگ جائے اور جماعتی مفاد کے لئے خطرہ بن جائے وہ امارت کا اہل ہی نہیں ہے۔اس لئے امراء کو بھی اس بات کی نگرانی رکھنی چاہئے کہ تمام جماعت کو ان کے حقوق سے مطلع رکھیں اگر وہ دیکھیں کہ ان کی کسی بات سے کسی کو رنجش پہنچتی ہے تو اسے محبت کے ساتھ ہمدردی کے ساتھ دور کرنے کی کوشش کریں۔اور اگر اصول کا معاملہ ہو اور وہ اس معاملہ میں فیصلہ بدلنے کے مجاز نہ ہوں تو پھر ان کو سمجھا ئیں کہ دیکھو تمہیں بھی اختیار ہے چٹھی لکھو میں تمہیں پتے بتا تا ہوں کہ کس کو چٹھی لکھنی چاہئے۔میرے خلاف شکایت لکھو اور کھل کر کھو کہ میں نے کیا غلطی کی ہے۔پھر تمہیں آپ ہی مرکز سمجھا دے گا کہ کیا اصل بات تھی۔تو نظام جماعت میں تو کوئی رخنہ پیدا ہو ہی نہیں سکتا اگر تقویٰ سے کام لیا جائے لیکن روح تقوی کی ہی ہے جو کام کرتی ہے۔مجلس میں بھی کوئی بات تکلیف نہیں دیتی اگر وہ تقویٰ پر مبنی ہو اور متقیوں کا اختلاف ہمیشہ رحمت بنتا ہے۔آنحضرت ﷺ نے اس مضمون کو ایک ہی فقرہ میں بڑی خوبصورتی سے بیان فرمایا دیا ہے مگر افسوس کہ بعض لوگ اس پر نظر نہیں کرتے۔فرمایا: اختلاف امتی رحمة (حوالہ حدیث) میری امت کا جو اختلاف ہے وہ رحمت ہے اور دوسرے مواقع پر اختلافات کے خلاف بہت سخت ناراضگی کا اظہار بھی فرمایا۔بعض اختلافات ہیں جو امت محمدیہ کے اختلاف ہیں ، یہاں امتی کا جو لفظ ہے اس نے مضمون میں جان ڈالی ہے۔جو میری امت ہو، یہ معنی ہیں کہ جو بچے رنگ میں حقیقی طور پر میری ہو وہ میرے رنگ میں رنگین ہوگی۔ان کے اختلافات تقویٰ پر مبنی ہوں گے اور تقویٰ کے نتیجہ میں جو اختلاف ہے اس سے عقل ترقی کرتی ہے۔اس سے آزادی ضمیر کو تقویت ملتی ہے اور خیالات ایک دوسرے کے ساتھ مل کر نشو ونما پاتے ہیں، ہر قسم کے اندھیرے دور ہوتے ہیں ،نئی روشنیاں نصیب ہوتی ہیں اور ترقی کا ایک لامتناہی سلسلہ اس سے پیدا ہوتا ہے اس کا نام رحمت ہے لیکن جو اختلاف تقوی سے عاری ہو وہ رحمت کیسے بن سکتا ہے۔یہ تو ہمیشہ ظلم پر مبنی ہوتا ہے اور ظلمات پیدا کرتا ہے اس کے نتیجہ میں اندھیرے پیدا ہوتے ہیں، اضطراب پیدا ہوتے ہیں۔تو میں پھٹ جایا کرتی ہیں۔تو بات وہیں ختم ہوتی ہے یعنی تقویٰ پر۔تقویٰ سے بات کی جائے تو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اختلاف بھی رحمت بن جاتا ہے اور تقویٰ نہ ہو تو تائید بھی لعنت بن جاتی ہے۔جیسا کہ میں نے بیان