خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 752
خطبات طاہر جلد ۱۰ 752 خطبہ جمعہ ۱۳ ستمبر ۱۹۹۱ء مرکز کو رپورٹیں بھیجنا شروع کیں کہ فلاں موقعہ پر فلاں شخص نے یہ کہا۔فلاں وقت پر یہ کہا۔فلاں وقت پر یہ کہا۔اگر چہ وہ دب گیا ہے لیکن اس میں فتنہ پردازی کی بو پائی جاتی ہے اور بعض بہت اچھے اچھے کارکن اس طرح خدمت سے محروم رہ گئے اور کسی موقعہ پر ان کو یہ نہیں بتایا کہ اگر چہ مجھے حق ہے کہ تمہارے فیصلہ کے اوپر ویٹو کروں لیکن تمہیں بھی حق ہے اور تم میں سے ہر ایک کا حق ہے کہ میرے ہر فیصلہ کے خلاف جس سے تمہیں اختلاف ہو خلیفہ وقت کو چٹھی لکھو اور اس کا طریق یہ ہے کہ براہ راست لکھو تو مجھے اس کی نقل بھیجو لیکن بہتر طریق یہ ہے جس کو ہم رواج دیتے ہیں کہ جس کے خلاف شکایت ہے اس کی معرفت خط لکھو اورنقل براہ راست بھیج دو تا کہ یہ وہم نہ رہے کہ کوئی عہد یدار اپنے خلاف شکایت کے اوپر بیٹھ رہا ہے۔یہ اگر بتایا جا تا تو جن فتنوں کی میں بات کر رہا ہوں ان میں سے ایک بھی فتنہ پیدا نہ ہوتا۔ایک لمبے عرصہ تک بے چاری جماعتوں کو اس دھوکا میں رکھا گیا کہ امارت کے نظام سے مراد یہ ہے کہ امیر سیاہ وسفید کا کلیہ مالک بن چکا ہے اور اس کے خلاف اگر کوئی شکایت پیدا ہو رہی ہے۔دل میں کوئی لغزش پیدا ہورہی ہے تو سوائے صبر کے اس کے حل کا کوئی رستہ نہیں ہے اور ہر آدمی سے صبر نہیں ہوتا۔وہ پھر رستہ نہ پا کر نئے رستے بناتے ہیں۔اپنے ماحول میں اپنے دوستوں میں باتیں کرتے ہیں ان کو بددل کرتے ہیں اور رفتہ رفتہ جماعت کا اخلاص گرنے لگتا ہے اور ایک بددلی سی پیدا ہو جاتی ہے اور جب یہ بات بہت بڑھ جائے تو پھر فتنے کا ایک آتش فشان پھٹ پڑتا ہے۔بعض ممالک میں بہت بھاری نقصان پہنچا ہے۔میں سوچتا ہوں کہ اگر مثلاً ۲۰۔۲۵ سال پہلے یہ نقصان نہ پہنچا ہوتا تو آج جماعت دس گنا زیادہ طاقتور ہوتی۔بہت بڑے بڑے طاقتور لوگ جو ویسے ہی مخلص تھے وہ ہاتھ سے نکل گئے اور مخلص ہونے کا ان کا ثبوت یہ ہے کہ مدتیں ہوگئی ہیں اس فتنے کو پیدا ہوئے اور ان کو الگ ہوئے لیکن آج تک حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا پورا احترام ہے۔تمام دعاوی کو تسلیم کرتے ہیں اور کھلم کھلا مجالس میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی صداقت کا اعلان کرتے ہیں۔اگر دل میں اخلاص نہ ہوتا تو اتنی دیر کے بعد یہ کیسے باقی رہ سکتا تھا جو فتنے دل کی کبھی سے پیدا ہوتے ہیں وہ ایمان کو ضرور کھا جاتے ہیں۔جو فتنے لاعلمی سے پیدا ہوتے ہیں نقصان انکا بھی ہوتا ہے لیکن ایمان بیچ جایا کرتا ہے اور ایسے لوگوں کو بالآخر اللہ تعالیٰ بچالیتا ہے تو جوشخص لوگوں کی لاعلمی۔