خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 751
خطبات طاہر جلد ۱۰ 751 خطبہ جمعہ ۱۳ ستمبر ۱۹۹۱ء ہوئے وہاں اللہ تعالیٰ کے فضل سے سلسلہ کا روپیہ واپس ہوا لیکن یہ تو بہت بعید کی بات ہے۔میں آپ کو روزمرہ کی باتوں میں تاکید کر رہا ہوں اور نظام جماعت سمجھا رہا ہوں۔مجلس عاملہ کے اختیارات ہیں بجٹ کے اندر تبدیلی پیدا کرنا اور پھر اس کے متعلق منظوری لینا۔بجٹ کے باہر تبدیلی کا کوئی اختیار نہیں۔مرکز کو درخواست کی جاسکتی ہے اور بجٹ کے اندر رہتے ہوئے خرچ کرنا امیر کی ذمہ داری ہے اور جہاں وہ تجاوز کرتا ہے وہاں دستخط کرنے والے کو ہاتھ روک لینے چاہئیں۔اس کا اب فرض ہے کہ وہ امیر سے کہے کہ تم نے افسر بالا کی نافرمانی کی ہے اس لئے میں اس نافرمانی میں تمہارا شریک نہیں بنوں گا۔مرکز سے اجازت لو اور پھر مجھے مطلع کرو، پھر میں دستخط کروں گا۔اب اگر سختی سے اس بات کو نافذ کیا گیا تو انشاء اللہ آئندہ جو ہلکا سار جحان پیدا ہورہا ہے اس کا ہمیشہ کے لئے قلع قمع ہو جائے گا۔مجالس عاملہ کے تعلقات میں ایک بات یہ یاد رکھنی چاہئے کہ امیر کو بعض اوقات مجلس کے فیصلوں کو ویٹو کرنے کا اختیار ہوتا ہے اور وہ اس وقت ہوتا ہے جب وہ سمجھتا ہے کہ مجلس عاملہ کا یہ فیصلہ جماعت کی اعلیٰ اغراض کے منافی ہے اور جماعت کے لئے بعض خطرات پیدا کر سکتا ہے۔اس صورت میں امیر کو یہ اختیار ہے کہ وہ ویٹو کر دے لیکن امیر کا فرض ہے کہ ویٹو کرنے کے بعد ۱۵ دن کے اندر اندر مرکز کو اس ویٹو کے حق کی وجوہات سے مطلع کرے۔ایسی باتیں بھی دیکھنے میں آتی ہیں کہ امیر نے فیصلہ کیا ویٹو کر دیا اور بارہا ویٹو کیا اور مرکز کو مطلع نہیں کیا اور جماعت کو بھی مطلع نہ کیا کہ جماعت کے کیا حقوق ہیں اور اگر امیران حقوق سے متعلق ایک بالاحق کو استعمال کرتے ہوئے ان کو منسوخ کرتا ہے تو جماعت کو کیا حق ہے؟ جماعت کو کیا کرنا چاہئے۔جماعت کی یہ عدم تربیت ہے اس کے نتیجہ میں ماضی میں بہت بڑے بڑے فتنے پیدا ہوئے ہیں۔خاص طور پر افریقہ میں سلسلے کو بہت نقصان پہنچا ہے۔ہوتا یہ تھا کہ مرکز سے ایک تربیت یافتہ آدمی تربیت یافتہ ان معنوں میں کہ جو قوانین کو خوب سمجھتا ہے وہاں مقرر ہوا اور امیر بنا دیا گیا۔نئے لوگ جو احمدیت میں داخل ہوئے اخلاص تو ان میں تھا لیکن نظام جماعت سے واقفیت نہیں تھی۔ان کو امیر نے یہ نہیں بتایا کہ تمہارے کیا حقوق ہیں۔ان کو یہ بتایا کہ میرے کیا حقوق ہیں۔جب بھی انہوں نے امیر کے فیصلے کے خلاف احتجاج کیا یا تو اسے یہ کہہ کر سختی سے دبا دیا کہ تم کون ہوتے ہوا میر کے خلاف بات کرنے والے یا ان کے متعلق