خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 737
خطبات طاہر جلد ۱۰ 737 خطبہ جمعہ ۶ ستمبر ۱۹۹۱ء محافظ اور نگران رہتے ہیں۔اس طرف سے بھی کسی دشمن کو مجال نہیں ہوتی کہ وہ ان پر حملہ کر سکے تو اپنے اس روحانی معیار کو بڑھا ئیں اور اپنی باریک راہوں کی نگرانی کریں مخفی طریق سے شیطان جب آپ پر حملہ آور ہو خواہ وہ آواز کسی نیک آدمی کی طرف سے آرہی ہو دراصل وہ شیطان کی آواز ہے۔نیک آدمی ایک ملک کا عہد یدار ایک ملک کا صدر بھی بعض دفعہ سمجھ رہا ہوتا ہے کہ میں بہت متقی اور بزرگ ہوں اور بات ایسی کر رہا ہوتا ہے کہ شیطان اس کو آلہ کار بنارہا ہوتا ہے۔عام آدمی تک بات پہنچتی ہے تو کہتا ہے یہ دیکھو یہ فلاں اتنے بزرگ متقی انسان نے کہی ہے حالانکہ بات پہچانی جاتی ہے۔یو بھی نہیں آتی۔یہ ہو کیسے سکتا ہے کہ تقویٰ کے خلاف بات ہو اور اس میں بد بو نہ ہو؟ منقی کو بد بو آجاتی ہے۔اس کا دل ضرور اس کو متنبہ کر دیتا ہے کہ اس بات میں ہے کچھ بات کوئی ایسے خطرے کی بات ہے جو یہ بات قابل قبول نہیں رہی ہے اور ہر انسان کو خدا نے ایسا نورضرور عطا فرمایا ہے کہ اگر وہ اپنے ضمیر سے بر وقت اٹھنے والی اس تنبیہ کو قبول کرے اور اس پر غور کرے تو خدا تعالیٰ کے فضل سے وہ ہر فتنہ سے نجات پاسکتا ہے۔ویسے تو یہ مضمون شاید آگے اور بھی بڑھے لیکن آج کے خطبہ میں آخری بات میں یہی کہوں گا کہ یہ ایسی مشکل باتیں ہیں کہ دعا کے بغیر چارہ نہیں ہے۔دعا کے ذریعہ مدد مانگیں، دعا کے ذریعہ نئی زندگی حاصل کریں۔دعا کے ذریعہ ان سب فتنوں سے بچنے کی کوشش کریں۔تو بہ کرنی ہے تو خدا کے حضور توبہ کریں۔مجھ سے معافی مانگنا بالکل بے معنی ہے اگر دل میں پہلے پیدا نہ ہو چکی ہو اور خدا سے استغفار کرتے ہوئے مسلسل دعائیں مانگیں۔خدا آپ کی حفاظت فرمائے۔اگر آپ چیزوں کو نہیں دیکھ سکتے تو خدا تو دیکھ سکتا ہے۔وہ چاہے تو جس طرح چاہے اپنی تقدیر کوحرکت دے کر آپ کو ٹھوکروں سے بچا سکتا ہے۔اللہ تعالیٰ ہمیں توفیق عطا فرمائے کہ جو کام ظاہری طور پر ہماری تدبیر کے بس میں نہیں اور حقیقت میں کچھ بھی نہیں، دعا سے ان کاموں کو کریں اور دعا ہی سے ہماری تدبیر میں بھی جان پیدا ہوگی۔اللہ تعالیٰ ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین