خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 725
خطبات طاہر جلد ۱۰ 725 خطبہ جمعہ ۶ ستمبر ۱۹۹۱ء ہرگز کسی قیمت پر روگردانی نہیں کر سکتا۔اس معاملہ میں میں سوائے خدا کے اور کسی کا دوست نہیں ہوں اور اگر کوئی یہ سمجھتا ہو کہ مجھ سے اچھے تعلقات ہیں مجھ سے محبت کے دیرینہ مراسم چلے آرہے ہیں میں اس سے پیار کرتا ہوں تو یہ واہمہ دل سے نکال دے۔میرا پیار اس حد پر جا کر رک جاتا ہے جہاں وہ خدا کی مقرر کردہ حدوں کو پھلانگ کر باہر نکلتا ہے اور مجھ میں یہ گنجائش اور توفیق ہی نہیں ہے کہ ایسے شخص سے پیار کا کوئی تعلق رکھ سکوں۔تو ایسے موقع پر وہ بعض دفعہ مجھے واسطے دیتا ہے کہ آپ تو بڑے شفقت کرنے والے، آپ تو بڑے مہربان ہیں، آپ ہمیشہ مجھ سے اس طرح کیا کرتے تھے ،اب کیوں آنکھیں پھیری ہیں؟ تو میں ان کو بتاتا ہوں کہ آنکھیں پھیر نے والا وہ ہوتا ہے جو خدا اور اس کے دین سے آنکھیں پھیر لے جو دین کے اعلیٰ مفادات سے آنکھیں پھیر لے ، جو دین کے اعلیٰ تقاضوں سے آنکھیں پھیر لے اور اگر خلیفہ وقت اس سے آنکھیں نہ پھیرے تو اس کی آنکھیں دیکھنے کے لائق نہیں ہیں۔وہ نور بصیرت سے عاری آنکھیں ہیں اور خدا مجھے ایسی توفیق نہ دے کہ میری آنکھیں بھی اس طرح اندھی ہو جائیں کہ جن کی آنکھیں نظام جماعت سے پھر رہی ہوں میری آنکھیں ان کو محبت سے دیکھیں یہ ہو ہی نہیں سکتا۔اس فتنے نے جب یہاں تک سراٹھایا تو مجھے کچھ اقدامات کرنے پڑے اور عجیب بات ہے کہ جو لوگ ملوث ہوتے ہیں اور آخر وقت تک اپنے آپ کو معصوم ہی سمجھ رہے ہوتے ہیں کوئی نہ کوئی بہانہ پیش نظر رکھتے ہیں اور یہ بات نہیں سوچتے کہ ان کی ان حرکتوں کے نتیجے میں جماعت ضرور بٹ رہی ہے اور نظام جماعت کو نقصان پہنچ رہا ہے۔آخری فیصلہ اس بات سے ہونا چاہئے کہ جو باتیں میرے علم میں آئی ہیں اگر وہ غلط ہیں تو ان کا صحیح علاج کیا ہے؟ ہر وہ علاج غلط اور جھوٹا ہے جس سے نظام جماعت کو کسی طرح کی آنچ آئے اور بعض لوگ نظام سے دل برداشتہ ہوں اور مومنوں کی جماعت میں تفریق پیدا ہو۔سوال یہ ہے کہ کیا امیر کبھی غلطی نہیں کرتا ؟ یقینا کرتا ہے۔کئی امیر ہیں جو نہ صرف اپنے فرائض سے غافل ہو جاتے ہیں بلکہ احباب جماعت سے ویسا شفقت اور محبت کا تعلق نہیں رکھتے جیسا کہ ان کے منصب کا تقاضا ہے۔ایسے بھی امیر ہیں جو بعض دفعہ بعض لوگوں کے ساتھ بہت زیادہ محبت کا تعلق رکھنے لگ جاتے ہیں اور وہ لوگ ان امیروں سے کھیلتے ہیں اور ان کو یہ بتاتے ہیں کہ فلاں شخص تو تمہارے خلاف ہے، اگر تم نے ان کے ساتھ کسی قسم کا نظام جماعت میں سختی کا برتاؤ کیا تو وہ فساد برپا