خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 724 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 724

خطبات طاہر جلد ۱۰ 724 خطبہ جمعہ ۶ ستمبر ۱۹۹۱ء جرمنی میں بھی ایسے فسادات ہوئے لیکن جرمنی میں فسادات کی کچھ مختلف نوعیت بھی تھی اور دوسری بات یہ ہے کہ امیر صاحب جرمنی کو اللہ تعالیٰ نے بے حد حوصلہ عطا فرمایا ہے اور ہر شخص میں وہ حوصلہ نہیں ہوتا ان کے اندر خدا تعالیٰ نے جو خوبیاں رکھی ہیں ان میں سے ایک صبر کی خوبی ہے۔لمبے عرصے تک وہ صبر کے ساتھ تکلیفوں کو برداشت کرتے رہے اور دو تین دفعہ میرے علم میں بھی لائے میں نے بھی کوشش کی۔جب وہ بیماری ٹھیک نہ ہوئی تو بالآخر گزشتہ خطبہ میں میں نے جو حالات بیان کئے ہیں وہ حالات رونما ہوئے اور معاملہ یہاں تک پہنچا۔ناروے میں بعد میں فتنے نے ایک اور رنگ اختیار کر لیا۔بعض لوگ امیر سے جو موجودہ امیر ہیں ان سے دل برداشتہ تھے، خواہ خانگی جھگڑوں کی بناء پر یا کسی اور وجہ سے ان کو نائب امیر صاحب ایسے مل گئے جوان کی باتیں سنتے تھے۔ایسے اور عہدیدار مل گئے جو ذیلی تنظیموں سے تعلق رکھنے والے عہدیدار تھے جن کا ہر گز کام نہیں ہے کہ وہ جماعتی نظام میں دخل دیں اور جماعت کے خلاف باتیں کرنے والوں کی دلجوئی کریں اور ان کی حوصلہ افزائی کریں اور ہمدردیوں کے اظہار کریں اور فتنہ جب بھی اس مقام تک پہنچ جاتا ہے کہ بڑے عہدیدار ہمدردی اور شفقت سے فتنہ پردازوں سے گفتگو کرتے ہیں اور ان کی حوصلہ افزائی کرتے ہیں تو پھر ساری جماعت کو سخت خطرہ درپیش ہو جاتا ہے۔اور پھر پہلی دفعہ میں نے وہاں با قاعدہ ایسے آثار دیکھے کہ فتنہ پرداز با قاعدہ ایک پارٹی بنتے چلے جارہے تھے اور دونوں طرف کے خطوط مجھے ملتے تھے۔صاف پتہ چلتا تھا کہ یہ دونوں جماعتیں ایک الہی جماعت کی طرف منسوب نہیں ہو سکتیں۔اگر ایک الہی ہے تو دوسری ضرور شیطانی ہے کیونکہ اس قسم کے پھٹے ہوئے گروہ توحید میں نہیں سما سکتے اور خلافت اسلام میں تو حید کی نگرانی کرنا سب سے بڑا فریضہ ہے آیت استخلاف کا جو آخری نتیجہ خدا تعالیٰ نے نکالا ہے وہ تو حید پر مومنوں کی جماعت کو قائم رکھنا ہے۔جو خلافت سے کاٹے جاتے ہیں وہ توحید سے کاٹے جاتے ہیں یعنی خود منتشر ہو جاتے ہیں بکھر جاتے ہیں ٹکڑے ٹکڑے ہونے لگتے ہیں ، نام کے بہتر فرقے ہیں لیکن ہر فرقے میں بہتر در بہتر فرقے ہوتے چلے جاتے ہیں۔پس یہ میرے اولین فرائض میں سے ہے۔اگر میں اس فریضہ کو ادا نہ کروں تو میری زندگی کا کوئی مقصد نہیں ہے۔جماعت کو ایک ہاتھ پر اکٹھا رکھنا میرے فرائض میں سے ہے جس سے میں