خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 723
خطبات طاہر جلد ۱۰ 723 خطبہ جمعہ ۶ ستمبر ۱۹۹۱ء کا ایک عہدہ تھا اور بڑا اہم عہدہ تھا، وہ جماعت کے پریذیڈنٹ کے گریبان پر ہاتھ ڈالتے تھے بدتمیزی کرتے تھے اور بعض دفعہ جسمانی طور پر زدوکوب بھی کیا۔یہ وہ زمانہ ہے جبکہ ہمارے ناروے کے امیر مکرم نور بولستاد صاحب تھے اور ان کو تو چونکہ لمبا انتظامی تجربہ نہیں تھاوہ اس قسم کی بے ہودہ حرکتوں اور بدتمیزیوں سے ایسے دل برداشتہ ہوئے کہ ایک دفعہ انہوں نے مجھے لکھ بھیجا کہ مجھ سے اب مزید کام نہیں ہوسکتا یہ لوگ اس سرشت کے لوگ ہیں، اس مزاج کے لوگ ہیں کہ میں ان سے نپٹ نہیں سکتا، میں نے اصلاح کی بہت کوشش کی مگر یہ باز نہیں آئے۔وہ تو لاعلم تھے اگر ان کو پہلے پتہ ہوتا کہ ایسی صورت میں فوری طور پر آپریشن کرنا پڑتا ہے۔جہاں دواؤں سے مرض نہ سنبھالتا ہو وہاں جراحی کے سوا کوئی علاج نہیں اور فوری جراحی ہمیشہ بہتر نتیجہ دکھاتی ہے۔ان کو یہ بھی علم نہیں تھا کہ ایسے معاملات کو فوری طور پر میرے علم میں لانا چاہئے لیکن جو مربی وہاں موجود تھے اور اس وقت ان کے نائب امیر تھے انہوں نے آنکھیں بند رکھیں۔پہلے فتنہ سے بھی آنکھیں بند رکھیں اور بعد کے فتنہ سے بھی آنکھیں بند رکھیں اور اس کو شاید وہ اپنی شفقت سمجھتے ہوں اور یہاں کے لوگ بھی یہی سمجھتے تھے کہ بڑے ہی نرم مزاج حلیم طبع اور شفیق مربی ہیں۔جب امیر نے اس وقت فتنوں سے آنکھیں بند رکھیں کہ لوگوں کو کہیں تکلیف نہ پہنچے اور جب نائب امیر ہوئے تب بھی فتنوں سے آنکھیں بند رکھیں۔اس کا نام علم نہیں ہے اس کا نام انتہائی سادہ لوحی ہے جس کے لئے اصل لفظ میں کہہ نہیں سکتا کیونکہ اس سے دل مجروح ہوں گے لیکن امر واقعہ یہ ہے کہ جماعت کا جو عہدے دار ایسی باتوں سے صرف نظر کرتا ہے وہ خواہ کیسا ہی نیک اور بزرگ اور سلسلے کا وفادار کیوں نہ ہواس سے ضرور سلسلے کو نقصان پہنچتا ہے۔ایسے موقعوں پر تقویٰ کا تقاضا یہ ہے کہ وفا کے اعلیٰ تقاضوں کو پورا کیا جائے۔ذاتی تعلقات اور ذاتی دشمنیوں کو سراسر بھلا دیا جائے۔ہرایسے شخص کا جس کے علم میں ایسی بداخلاقیاں آتی ہیں۔فرض ہے کہ وہ اول تو فوری طور پر بیمار لوگوں کو سمجھانے کی کوشش کرے اگر وہ نہیں سمجھتے تو افسر بالا کو بتا ئیں۔اگر وہ اقدام نہیں کرتے تو پھر او پر بات پہنچائیں۔لیکن ایسا ہونے کی بجائے جماعت میں چہ میگوئیاں ہوتی رہیں اور اس کا ایک بہت بڑا نقصان یہ پہنچا کہ ناروے کے ایک نہایت متقی اور بزرگ انسان جو نارویجن قوم سے تعلق رکھتے تھے، جن کو میں نے عمدا اس قوم کی تربیت کی خاطر امیر مقرر کیا تھاوہ ان جیسے نیک اور پارسا امیر سے محروم رہ گئے۔