خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 722
خطبات طاہر جلد ۱۰ 722 خطبه جمعه ۶ ر ستمبر ۱۹۹۱ء اقدام نہیں کرتی ، جس کے نتیجے میں بعض دفعہ بہت گہرے نقصان پہنچ جاتے ہیں۔ جماعت جماعت ناروے میں بھی ایسے لوگ تھے جنہوں نے نظم و ضبط کو بالائے طاق رکھتے ہوئے جماعت احمدیہ کے وقار کو مجروح کرنے والی حرکتیں کیں اور نتیجہ مسلسل یہی سمجھتے رہے کہ وہ متقی اور پر ہیز گار ہیں اور باقی سب لوگ گندے ہیں اور رفتہ رفتہ سرکشی پیدا ہونے لگی اور امیر کی موجودگی میں بھی اور مجلس عاملہ میں بھی مسجد میں ، مجالس میں بلند آواز سے بد تمیزی کی باتیں ہوتی رہیں۔ تو سب سے پہلے جس فتنے سے مجھے تکلیف پہنچی وہ یہ فتنہ تھا لیکن افسوس ہے کہ جن لوگوں کے سپر د ذمہ داری کی جاتی ہے اگر وہ بروقت مناسب اقدام کی اہلیت نہیں رکھتے تو مجھے وقت پر مطلع کیوں نہیں کرتے فتنے میں پل ہی نہیں سکتے ۔ اگر جماعت کو یہ معلوم ہو جائے کہ خلیفہ وقت کا یہ منشا ہے تو ناممکن ہے کہ یہ جماعت کسی فتنہ پرداز کو اپنے اندر جگہ دے لیکن لاعلمی میں بہت سے لوگ دھوکا کھاتے اور کسی نہ کسی طرح ملوث ہوتے چلے جاتے ہیں۔ ایک طرف کی باتیں سنتے ہیں، سمجھتے ہیں کہ ہاں یہ سچی بات کر رہا ہے اور بعض دفعہ بات سچی بھی ہوتی ہے مگر کہنے کا انداز جھوٹا ہے، کہنے کا انداز فتنہ ہے۔ چنانچہ وہ منافقین جو آنحضرت ﷺ کو سچا کہتے تھے ، قرآن کریم نے ان کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا بات تو سچی کرتے ہیں لیکن ہیں جھوٹے لوگ ، تو بعض دفعہ باتیں سچی ہوتی ہیں لیکن باتیں کرنے کا مقصو د فتنہ ہوتا ہے۔ چنانچہ ایسے لوگ جب ایسے بعض دوستوں سے سنتے ہیں کہ فلاں دوست میں یہ نقص ہے، فلاں میں یہ نقص ہے اور امیر صاحب اس کو برداشت کر رہے ہیں اس کے خلاف کوئی سخت قدم نہیں اٹھایا جاتا ، تو بعض نقائص واقعہ ہوتے ہیں اس لئے بعض سادہ لوح انسان اس کے دھوکے میں مبتلا ہو جاتے ہیں لیکن مومن کے متعلق آنحضرت ﷺ کا ارشاد ہے کہ اس کی سادگی ان معنوں میں سادگی رہے نہیں کہ وہ بے وقوف ہو۔ وہ خدا کے نور سے دیکھتا ہے، ہر ایسا شخص جس کو تقوی کی روشنی نصیب ہو وہ کبھی ایسے دھوکے میں مبتلا نہیں ہو سکتا۔ تقویٰ کے معیار میں کچھ کمی ہے جس کے نتیجے میں ایسا واقع ہوتا ہے۔ یک طرفہ باتیں سننے کا چسکا پڑ جاتا ہے اور رفتہ رفتہ یہ محسوس کئے بغیر کہ اس سے کتنا بڑا نقصان جماعت کو پہنچ سکتا ہے۔ کچھ لوگ ایک طرف ایک گروہ میں بٹنے لگتے ہیں۔ کچھ دوسری طرف دوسرے گروہ میں بٹنے لگتے ہیں۔ صلى الله پھر ایک اور بے ہودہ فتنے نے اس رنگ میں سر اٹھایا کہ ایک صاحب جن کے سپر د جماعت