خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 721
خطبات طاہر جلد ۱۰ 721 خطبہ جمعہ ۶ ستمبر ۱۹۹۱ء نظام جماعت میں کوئی امیر ڈکٹیٹر نہیں۔خلیفہ بھی ڈکٹیٹر نہیں کیونکہ وہ مقتدرہستی کو جواب دہ ہے۔(خطبہ جمعہ فرموده ۶ ستمبر ۱۹۹۱ء بمقام مسجد نور اوسلو (ناروے) تشہد وتعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے فرمایا: آج کا یہ خطبہ میں ناروے کے دارالسلطنت اوسلو سے دے رہا ہوں۔ناروے کی جماعت بھی ان جماعتوں میں سے ایک ہے جن میں گزشتہ چند سالوں سے بارہا کئی قسم کے مسائل پیدا ہوتے رہے اور کئی قسم کی سرکشیوں نے سر اٹھایا۔ایسے لوگ چند گنتی کے ہوں گے کیونکہ میرا حسن ظن اس جماعت پر یہی ہے کہ جماعت کی بھاری اکثریت اللہ تعالیٰ کے فضل سے تقویٰ کے ساتھ جماعت سے وابستہ ہے اور پوری وفا کے ساتھ نظام جماعت کے ساتھ منسلک ہے لیکن جیسا کہ کہا جاتا ہے کہ بعض دفعہ ایک مچھلی بھی سارے تالاب کو گندا کر دیتی ہے۔عملاً الہی جماعتوں میں جب فتنے پھیلانے کی کوشش کی جاتی ہے خواہ وہ عمداً کی جائے یا بغیر معلوم ہوئے ایک فتنہ پردازا اپنی شخصیت کو پہنچانے بغیر فتنے پھیلا رہا ہوتا ہے اور اس کو علم بھی نہیں ہوتا کہ وہ کیا کر رہا ہے جو بھی صورت ہو ہر مچھلی خواہ ایک ہو یا دو یا تین ہوں ان مچھلیوں کا پھیلایا ہوا گند چاروں طرف پھیلتا ہے اور تالاب کا پانی ضرور گدلا دکھائی دینے لگتا ہے اس لئے جہاں بھی اس قسم کے لوگ پہنچیں اور ان کی شرارت اور ان کے فساد کو بر وقت دبایا نہ جائے اس کا نقصان لازماً جماعت کو پہنچتا ہے اور یہ جماعت کی بدنصیبی ہے۔چھوٹی چھوٹی باتوں کو چھوٹی چھوٹی بدتمیزیوں کو دیکھتی ہے اور انہیں برداشت کرتی چلی جاتی ہے اور بر وقت