خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 720
خطبات طاہر جلد ۱۰ 720 خطبه جمعه ۳۰ راگست ۱۹۹۱ء باتیں اس لئے بتائی ہیں کہ بعض سادہ لوح آخری مقام پر پہنچنے سے پہلے پہلے ٹھوکریں کھا جایا کرتے ہیں۔جب اس قسم کا مقابلہ کھل کر ہوتا ہے تو پھر وہ تو بہ بھی کرتے ہیں۔واپس بھی آتے ہیں لیکن زخمی ہونے کے بعد اور چند ایک گنتی کے بدنصیبوں کے سوا ان فتنہ گروں کے ساتھ کوئی بھی نہیں رہا کرتا۔خود ان کے ساتھی ان کو چھوڑ دیا کرتے ہیں اور اس مضمون کو بھی قرآن کریم نے بہت کھول کر جنگ بدر کے حالات بیان کرتے ہوئے بیان فرما دیا ہے۔کوئی فتنے کا پہلو ایسا نہیں جو قرآن کریم نے خالی چھوڑا ہو جس کے متعلق ہمیں تنبیہہ نہ کر دی گئی ہو۔پس اللہ تعالیٰ ہمیں تو فیق عطا فرمائے کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کو ادا کریں جو عام حالات کی ذمہ داریوں سے بہت بڑھ کر ہیں۔یادرکھیں ہم صدی کے سر پر کھڑے ہیں ہم بحیثیت مجموعی اس صدی کے امام بنائے گئے ہیں۔آج کی غفلتیں اور آج کی ٹھوکریں آنے والے سو سالوں پر اثر انداز ہوں گی اس لئے سوچ کر مضبوطی کے ساتھ قدم اٹھائیں۔سلسلہ کی روایات کی حفاظت کریں اور ہر ایسے شخص کو جس کی انانیت سراٹھاتی ہے اس کو رد کر دیں اور اسے نا مراد کر کے دکھا دیں۔اللہ تعالیٰ ہمارے ساتھ ہو۔اور ہمیشہ ہمیں حضرت اقدس محمد مصطفی علی ہے کے سکھائے ہوئے اعلیٰ اسلوب کے مطابق اطاعت اور ادب کے حق ادا کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔آمین۔