خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 717
خطبه جمعه۳۰/اگست ۱۹۹۱ء خطبات طاہر جلد ۱۰ 717 مشورے ہیں لیکن یہ کہنا بالکل غلط ہے کہ ان کے مشورے کسی ناپاک ارادہ سے ہوتے ہیں۔یا ان کے مشوروں کے نتیجہ میں جماعت کو کوئی نقصان پہنچ سکتا ہے ایک واقعہ بھی میرے علم میں آج تک نہیں آیا۔ان کا میں شکریہ ادا کر دیا کرتا ہوں کہ جزاك اللہ آپ کے مشورے مل گئے جس حد تک ضرورت ہوئی میں فائدہ اٹھاؤں گا۔یا یہ کہ دیتا ہوں کہ اکثر باتیں تو پہلے ہی اسی طرح ہو رہی ہیں۔مشورے پر مشورہ آ گیا ہے بس جزاک اللہ۔تو کیا حرج ہے اس میں اس بے چارے کی عادت ہے۔دلداری کر لی ختم ہو گیا معاملہ اس پر اتنا طیش کھانا ؟ اس طرح جل جل جانا اور بغض و عناد پیدا کر لینا اور جماعت میں پرو پیگنڈے شروع کر دینا کہ ایک شریف النفس امیر چونکہ صرف یہی نہیں کہ اس کی بات سنتا ہے بلکہ اس کا رشتہ دار بھی ہے اور اس کے ہاتھوں میں کھیل رہا ہے یہ ایک لعنتی پرو پیگنڈا ہے۔اگر ان لوگوں نے تو بہ نہ کی تو خدا کی نظر میں یہ مغضوب ہوں گے اور پکڑے جائیں گے۔عملاً ایسے لوگوں نے مجھ سے اپنا عہد بیعت خود فسخ کر لیا ہے مجھ سے ان لوگوں کا کوئی تعلق نہیں رہا۔کیونکہ ایسی بدبختی بار بار کی نصیحتوں کے باوجود بار بار گھنٹوں بیٹھ کر سمجھانے کے باوجو دان کو عقل نہیں آئی۔یہ کہنا چاہئے تھا یہ طریق اختیار کر سکتے تھے کہ فلاں صاحب مشیر ہیں اور ان کے مشورے بار بار غلط ہورہے ہیں۔یہ اسی طرح بار بار جماعت کے لئے سیکی ہورہی ہے میں لازماً فوری طور پر تحقیق کرتا مگر کبھی ایساواقعہ نہیں ہوا۔یہ درست ہے کہ امیر سے بھی غلطیاں ہوسکتی ہیں ، ہو جاتی ہیں لیکن ان غلطیوں کو درست کرنے کا ایک طریق کا رہے۔خلیفہ وقت موجود ہے، اس سے نیچے اور بھی عہدیداران ہیں جن کا امیر کی غلطیوں سے تعلق ہوسکتا ہے۔ناظر اعلیٰ ہے، وکیل اعلیٰ ہے، صدران مجالس ہیں لیکن کسی کو یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ خود امیر پر نگران بن کر بیٹھ جائے اور اس کی غلطیوں کو پکڑے۔صرف ایک معاملہ ایسا ہے جہاں اگر خدانخواستہ بھی ہو تو وہاں جماعت کو امیر کی متابعت میں رہنے کا حق نہیں رہتا کہ وہ خلیفہ وقت کے کھلے کھلے فیصلہ کے خلاف کوئی کارروائی کرتا ہے اور اس پر اصرار کرتا ہے۔اس صورت میں وہ عملاً اپنی امارت سے انحراف کر رہا ہے کیونکہ جس نے اس کو امیر مقرر کیا ہے اس کے دیئے ہوئے اختیارات سے تجاوز کر رہا ہے۔ایک امیر کے سوا آج تک میرے علم میں نہیں آیا کہ کسی نے خلیفہ المسح کی واضح ہدایت کی طورة