خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 716
خطبات طاہر جلد ۱۰ 716 خطبه جمعه ۳۰ راگست ۱۹۹۱ء میں مربی انچارج نے یہ کہا کہ امیر صاحب، جو جو آپ کے مشیر ہیں ان سے باز آجائیں ورنہ یہ ہوگا۔یا مجلس عاملہ کے معأبعد کہا اور مجلس عاملہ میں ایک ممبر صاحب اٹھ کر کھڑے ہوتے ہیں اور کہتے ہیں امیر صاحب! ہم آپ کو متنبہ کرتے ہیں۔الفاظ متنبہ ہوں یا نہ ہوں لیکن اس کی جو طرز ہے اور سختی ہے وہ یہی ہے۔آپ کو خلیفہ اسیح نے مشوروں کے دو فورم دیئے ہیں یعنی آپ کو دو مشیروں تک محدود کر دیا ہے۔ایک نائب امیر اور ایک مجلس عاملہ آپ اس فورم سے قدم باہر رکھنے کی استطاعت نہیں رکھتے آپ کو اجازت نہیں ہے کہ اس سے باہر نکلیں اور چونکہ آپ سن نہیں رہے اور ان باتوں سے باز نہیں آرہے کسی اور کی باتیں سنتے ہیں اس لئے یہ فتنہ پیدا ہوگا جب تک آپ تو بہ نہیں کرتے اور اپنے ان دو شیروں کو گو یا عملاً تابع نہیں کر لیتے اس وقت تک آپ امارت نہیں کر سکتے۔میں نے امیر صاحب کو کہا کہ بلا تاخیر فوراً ان صاحب کو مجلس سے باہر نکالیں اور عملاً آپ کی ساری مجلس عاملہ معزول ہے۔سوائے ایک شخص کے جس نے اس کے خلاف آواز اٹھائی۔ان کی غیرت کہاں گئی تھی ؟ انہوں نے کیوں نہیں مڑ کر پوچھا کہ تم ہوتے کون ہو اس فورم کے مقرر کرنے والے۔کہاں امیر المومنین نے یہ ہدایت کی ہے کہ کوئی امیر سوائے مجلس عاملہ یا نائب امیر کے کسی سے مشورہ نہیں کر سکتا۔(اور سارے فتنے کے دوران ) اندر اندر کئی سال کا یہ فتنہ پک رہا ہے۔ایک دفعہ، ایک دفعہ بھی میرے سامنے یہ بات کسی نے نہیں رکھی کہ مبشر باجوہ نے یا کسی اور باجوہ نے امیر صاحب کو یہ غلط مشورہ دیا اور یک طرفہ بات سن کر اس غلط مشورے پر انہوں نے عمل کیا۔اگر یہ بات ہوتی تو اور بات تھی میں اس معاملہ کی تحقیق کرتا اور پتہ کرتا کہ کیوں امیر صاحب اتنا متاثر ہیں ایک شخص سے کہ غلط صحیح کی پہچان کے بغیر فیصلے کئے چلے جاتے ہیں۔بعض لوگوں کو مشوروں کی بیماری ہوتی ہے۔یہ مبشر باجوہ صاحب کو بھی ہے وہ مجھے بھی بڑے لمبے لمبے خط لکھتے ہیں اور بیس بیس بائیس بائیس صفحے کے مشوروں کے خط مجھے ملتے ہیں۔میں نے تو کبھی حوصلہ نہیں ہارا اور نہ کسی کو یہ حق ہے کہ کہے کہ دیکھیں آپ کو خدا نے مجلس شوری تک محدود کیا ہے۔یا اپنے ناظروں تک محدود کیا ہے، خبر دار جو مبشر باجوہ کے مشورے آپ نے سنے۔اور میرا تجربہ ہے کہ آج تک انہوں نے کوئی ایسا مشورہ نہیں دیا جو جماعت کے مفاد کے خلاف ہو۔اللہ تعالیٰ نے ان کو مشوروں کا شوق تو ضرورت سے زیادہ دے دیا ہے لیکن عقل بھی اچھی بھلی ہے۔خدا کے فضل سے جو مشورے ہیں وہ یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ بے وجہ بہت ہی زیادہ