خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 699 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 699

خطبات طاہر جلد ۱۰ 699 خطبه جمعه ۲۳ / اگست ۱۹۹۱ء الصلوۃ والسلام کی جماعت سے تعلق رکھتے ہیں۔اگر ان کو حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام سے سچی محبت ہے، اگر وہ اس کے خلیفہ سے تعلق قائم رکھنا چاہتے ہیں تو ان کو میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی یہ نصیحت پہنچاتا ہوں کہ بچے ہو کر جھوٹے کی طرح تذلل اختیار کرو۔اگر تم اپنے سچے ہونے کی تعلیاں لے کر ایک دوسرے کو جھوٹے قرار دیتے رہو گے تو انسانی نفس اتنا دھوکا دینے والا ہے کہ بچے بھی ویسے ہی نظر آئیں گے جیسے جھوٹے نظر آئیں گے اور جھوٹے اور بچے میں تفریق ان جھگڑوں کے ذریعہ ہو ہی نہیں سکتی۔پھر تم توقع رکھو گے کہ نظام جماعت تمہاری آنکھوں سے تمہارے معاملات کو دیکھے اور اگر امیر اس نظر سے نہ دیکھے تو تمہیں امیر جھوٹا نظر آئے گا۔یہ ایک لامتناہی فتنوں کا سلسلہ ہے جو کبھی بند ہونے میں نہیں آئے گا۔اس لئے ایک ہی نسخہ ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بیان فرمایا کہ بچے ہو کر جھوٹے کی طرح تذلل اختیار کرو تم میں سے وہ جو اپنے آپ کو سب سے زیادہ سچا اور بری الذمہ سمجھتا ہے اس کو میں نصیحت کرتا ہوں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اس آواز کوسن کر وہ پہل کرے اور اپنے بھائی کا جاکے دروازہ کھٹکھٹائے اور اس سے معافی مانگے اور اس سے کہے کہ میرے نفس نے جو کچھ بھی سمجھا ہے میں اس کو نظر انداز کرتا ہوں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی آواز کو اپنے نفس کی آواز بنا رہا ہوں اس لئے اس آواز کی پیروی میں تم سے اس طرح معافی مانگتا ہوں گویا سارا قصور میرا تھا۔اگر وہ یہ طریق اختیار کریں تو یہ فتنہ ہمیشہ کے لئے مٹ سکتا ہے اور جو اس کے بداثرات ہیں خدا تعالیٰ کی تقدیر ان کو اس طرح مٹادے گی جیسے ان کا کوئی وجود ہی نہیں تھا۔ایک نئی جماعت اور ایک نئی زندہ رہنے والی اور ہمیشہ زندہ رہنے والی جماعت اس جماعت سے نکلے گی لیکن اگر وہ ان چھوٹی چھوٹی باتوں میں اسی طرح الجھے رہے اور اپنی سچائی کی تعلیاں بیان کرتے رہے تو نہ صرف وہ تباہ ہوں گے بلکہ ان کے اردگر دسا را اما حول تباہ ہو جائے گا۔کچھ لوگ جو ابھی ملوث نہیں ہوئے کوئی ایک کے ساتھ ملوث ہو جائے گا کوئی دوسرے کے ساتھ ملوث ہو جائے گا اور پھر وہ امیر کو بھی ملوث کریں گے ملک کے امیر کو اور پھر مجھے شکایتیں لکھیں گے کہ اس ملک کے امیر نے بھی تقویٰ سے کام نہیں لیا۔یہ دلائل ہمارے تھے، وہ دلائل ان کے تھے اس نے ان کی باتیں سن لیں اور ہماری نہیں سنیں۔