خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 697
خطبات طاہر جلد ۱۰ 697 خطبه جمعه ۲۳ /اگست ۱۹۹۱ء تھا۔اس کا فرض تھا کہ وہ مجلس سے اٹھ جاتا یا اٹھ کر دفاع کرتا۔ایک غیر احمدی کو تو توفیق مل گئی دفاع کرنے کی مگر اس کو نہیں ملی۔اس لئے اسے نرم لفظوں میں کہا جائے تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہو سکتا ہے کہ اس کی پرورش ایسے ماحول میں ہوئی ہو جہاں اس کو ان باتوں کی سمجھ نہ ہو اور امر واقعہ یہی ہے کہ وہ شخص جس کے متعلق بات کی جاتی ہے وہ ایسے ماحول کا پرورش یافتہ ہے جہاں اس کی تربیت گہری ہو نہیں سکتی تھی۔اس کی یہ سعادت ہے کہ وہ اس ماحول کے باوجود احمدیت سے تعلق رکھتا ہے۔اس میں اور بھی کمزوریاں ہیں چھوٹی چھوٹی باتوں پر بعض اور بھی اعتراض کرتا ہے۔بعض چندوں پر اعتراض کر دیتا ہے اور ایسی باتیں کرتا ہے تقویٰ کا تقاضا یہ ہے کہ ایسے شخص کو سنبھالنے کی کوشش کی جائے۔اس سے حسن سلوک کیا جائے، اس کی پردہ پوشی کی جائے ، اس کی دل آزاریوں کو بھی برداشت کیا جائے اور کوشش کی جائے کہ وہ سنبھل جائے اور دن بدن بہتر احمدی ہوتا چلا جائے اس لئے اس پس منظر میں اس پر یہ سخت الفاظ تو صادق نہیں آتے کہ وہ منافق ہے اور وہ بے غیرت ہے مگر میں نے جو الفاظ کہے ہیں یہ ان معنوں میں کہ وہ لوگ جو تربیت یافتہ ہیں، جن کو بچپن سے احمدیت کی روایات کا علم ہے، جن کو آنحضرت ﷺ کی سنت اور کردار کا علم ہے وہ اگر ایسی بات کریں تو ان کے لئے یقیناً یہ منافقت یا بعض دفعہ غداری بھی کہا جاسکتا ہے اور دین سے بے غیرتی بھی کہا جاسکتا ہے یقیناً ان تینوں میں سے کسی چیز کے مرتکب ہوئے ہیں۔تو بہر حال وہاں ان باتوں کو ملحوظ نہ رکھنا ایک کمزور آدمی کی کمزوری کو سمجھتے ہوئے ، اس کی اصلاح کی کوشش نہ کرنا اور اس قسم کی چھوٹی چھوٹی باتوں کوفتوں کا موجب بنالینا ایک جماعتی خود کشی کے مترادف ہے اور ایک دوسرے کے روحانی قتل کے مترادف ہے۔چھوٹی سی جماعت ہواس میں ایسی ناپاک فضا پیدا ہو جائے اور چھوٹے چھوٹے معاملات اس قسم کے جھگڑوں تک پہنچ جائیں جہاں انفرادی طور پر ہر شخص خدا کے فضل سے جیسا کہ میں نے بیان کیا ہے شریعت کے تمام تقاضے پورے کرنے والا ہو۔یہ بات ہمیں بتاتی ہے کہ انسان ہر وقت خطرے میں ہے۔کوئی امن کی حالت میں نہیں ہے صرف خدا کا فضل ہے جو انسان کے اوپر امن کا سایہ کئے رکھے تو انسان بیچ سکتا ہے اور جیسا کہ قران کریم نے ہمیں متنبہ فرمایا تھا وہاں یہ نہیں فرمایا کہ شیطان چھپ کر کمزوروں کی گھات میں بیٹھتا ہے اور مومنو تم اس سے بالکل بری ہو بلکہ تمام ابناء آدم کو مخاطب کیا ہے اور متنبہ فرمایا ہے کہ