خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 3 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 3

خطبات طاہر جلد ۱۰ 3 خطبہ جمعہ ۴ / جنوری ۱۹۹۱ء نہیں کر سکتے۔ایک پیاس بھڑ کا دیں گے اور جس قسم کی پیاس بھڑ کا ئیں گے اس قسم کا پانی آپ کے پاس نہیں ہوگا۔اس لئے یہ نہایت ہی جاہلانہ حرکت ہوگی اگر ہم مالی امداد کے ذریعے امریکن طاقتوں کا یا مغربی طاقتوں کا مقابلہ کریں۔دوسرا پہلو یہ تھا کہ یہ لوگ غریب ہیں اور بہت ہی لمبے عرصے سے خود اپنے ہم مذہب لوگوں کی حقارت کا نشانہ بنے رہے ہیں یعنی ہزار ہا سال سے انسانی طبقات میں سب سے زیادہ ذلیل سمجھے جانے والےلوگ تھے اُن سے میں نے کہا کہ آپ ان کی ذلتوں میں اضافہ کرنے کا سوچ کس طرح سکتے ہیں۔یہ غریب عزت دار ہیں۔غربت میں بھی ان کو ابھی ہاتھ پھیلانے کی عادت نہیں۔ان میں کوئی بھکاری آپ کو نظر نہیں آئے گا۔غریب فاقہ کش مزدور کثرت سے دیکھیں گے لیکن کوئی فقیران میں دکھائی نہیں دے گا۔بڑی محنت کش قوم ہے۔تو میں نے کہا کہ ایک ایسی باعزت قوم کو جس کا نفس معزز ہے اگر چہ بدن غریب ہے ، اُس کے اندر خدا کی ایک ہی نعمت ہے اور وہ اس کی عزت نفس ہے۔آپ اُسے بھکاری بنا کر وہ ایک دولت بھی اس کے ہاتھ سے چھین لیں۔چنانچہ اس استدلال کا خدا کے فضل سے اثر پڑا اور وقف جدید کے معلمین بھی پورے عزم کے ساتھ اس علاقے میں یہ سمجھتے ہوئے گئے کہ ہم نے ان کو عزت نفس عطا کرنے کے لئے جانا ہے اور یہی پیغام اُن کو دیا۔چنانچہ مقابلہ ایک طرف دولت کا تھا اور ایک طرف اخلاقی عظمت کا اور معلمین وہاں جا کر عیسائیوں کے مقا بل پر یہی پیغام دیتے تھے کہ کچھ لوگ تمہاری بھوک مٹانے کے لئے آئے ہیں۔بہت اچھی بات ہے۔تمہیں کپڑے پہنانے کے لئے آئے ہیں یہ بھی بہت اچھی بات ہے لیکن ساتھ ہی تمہیں بھکاری بنانے کے لئے بھی آئے ہیں اور پیسہ دیکر تمہارا مذہب تبدیل کرنے کے لئے آئے ہیں اور یہ اچھی بات نہیں۔ہم تمہیں مزید عزت نفس عطا کریں گے۔ہم تمہیں اسلام بھی دیں گے اور اس کے ساتھ تم سے مالی قربانی کے مطالبے بھی کریں گے اور تمہیں یہ کہیں گے کہ انتہائی غربت کے باوجود کچھ نہ کچھ نیک کاموں میں خرچ کرنے کی عادت ڈالو۔یہ پیغام بظاہر کڑوا ہے لیکن درحقیقت تمہیں تحت الثر کی سے اُٹھا کر آسمان کی بلندیوں تک لے جائے گا اور یہ سادہ پیغام اُن کے دل پر اتنا اثر انداز ہوا اور اتنا اس نے ان کے دلوں کو لبھایا کہ خدا تعالیٰ کے فضل کے ساتھ عیسائیت کے مقابل پر احمدیت کو وہاں بڑی کثرت کے ساتھ ہندو غریب اقوام کو اسلام میں داخل کرنے کی توفیق ملی اور اس کے ساتھ