خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 695
خطبات طاہر جلد ۱۰ 695 خطبه جمعه ۲۳ /اگست ۱۹۹۱ء میں یہ زخم ضرور پہنچنا تھا اور ایک فتنہ پیدا ہونا تھا جو مقدر تھا ان حالات میں اس کو پھر ٹالا نہیں جاسکتا لیکن جب یہ باتیں ہو جائیں پھر کیا کرنا چاہئے؟ یہ بھی ایسا مضمون ہے جس کے متعلق جماعت کو خوب کھول کر بیان کرنے کی ضرورت ہے۔آنحضرت ﷺ نے یہ تو فرمایا ہے کہ یکطرفہ بات سن کر کسی وقت اس کو دوسرے تک پہنچانے والے کی مثال ایسی ہی ہے جیسے تیرا ٹھا کر سینے میں گھونپ دینے والے کی ہے لیکن یہ نہیں فرمایا کہ اس کے نتیجے میں اس شخص کو کیا کرنا چاہئے جس کو تیر مارا گیا ہو اس لئے یہ وہ پہلو ہے جس پر آنحضرت ﷺ کی سنت سے جہاں روشنی پڑتی ہے ان معاملات کو پیش نظر رکھ کر آپ کو نصیحت کروں۔ہرگز یہ مطلب نہیں ہے کہ جس کو اپنے متعلق کسی کی مخالفانہ بات پہنچے وہ بھڑک اٹھے اور جوابی کارروائی اس طرح کرے کہ وہ بات جو ابھی تک یکطرفہ ایذارسانی کی حد تک ہے وہ دوطرفہ جنگ میں تبدیل ہو جائے۔عفوکس بلا کا نام ہے۔عفو اسی کو کہتے ہیں کہ ایک انسان اپنے بھائی سے دکھ اٹھائے اور خاموش رہے اور صبر کرے اور اگر انسان ایک خلق میں نقصان اٹھا بیٹھا ہے اور اس خلق کے اعلیٰ تقاضوں کو پورا نہیں کر سکا تو خدا تعالیٰ نے مومن کو اور بھی صفات عطا فرمائی ہیں۔دوسری صفات اس کی حفاظت فرما دیتی ہیں اور کئی قسم کی مشکلات اور مصیبتوں سے وہ بچ سکتا ہے اس لئے مومن ایک طرف سے حفاظت نہیں دیا گیا ہر طرف سے حفاظت دیا گیا ہے۔جب تک ساری دیوار میں نہ ٹوٹیں اس وقت تک مومنوں کی جماعت میں فتنہ نہیں پیدا ہوسکتا۔پس میری یہ نصیحت ہے اس شخص کو اور ساری جماعت کو جو اس قسم کے معاملات میں خدانخواستہ کبھی ملوث ہو کہ ایسے موقع پر سب سے پہلا رد عمل یہ ہونا چاہئے کہ انسان درگزر سے کام لے اور بجائے اس کے کہ بھڑک اٹھے اور اس شخص کو گالیاں دے اور پھر وہ امیر سے باتیں کرے اور امیر اور اس کے درمیان پھر توں توں میں میں ہو اور اچھی بھلی سنجیدہ جماعت جو عام دنیا کے حالات میں متقی، پر ہیز گاروں کی جماعت ہے، خدا کی راہ میں خدمت کرنے والوں کی جماعت ہے۔وہ چھوٹے چھوٹے بچوں کی طرح یا گھٹیا عورتوں کی طرح آپس میں لڑنے لگے اس کی بجائے اور بھی راہیں ہیں جو اگر اختیار کی جاتیں تو معاملہ سلجھ سکتا تھا۔جس شخص نے یہ بات سنی تھی اس کا اول تو یہ فرض تھا اگر وہ خود متقی تھا کہ امیر کو کہے کہ جناب آپ مجھے یہ بات کیوں پہنچارہے ہیں ، کب آپ نے سنی