خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 687
خطبات طاہر جلد ۱۰ 687 خطبه جمعه ۲۳ اگست ۱۹۹۱ء رسول الله اللہ بے انتہاء بخشش کرنے والے تھے، اللہ تعالیٰ بے انتہاء بخشش کرنے والا ہے اس لئے نظام جماعت کے اوپر جو چاہے جس طرح چاہے ہاتھ ڈال دے، جس طرح چاہے اپنے بڑوں کی بے عزتیاں کرے، نظام جماعت سے لا پروائی سے پیش آئے اور گستاخی سے پیش آئے ، عدم تعاون کرے اور ان باتوں پر اصرار کرے اور پھر اس کا تقاضا ہو کہ مجھے ضرور معاف کیا جائے۔ایسی صورتوں میں بھی بعض دفعہ انفرادی طور پر معافی کی گنجائش ہوتی ہے مگر جب یہ باتیں فتنوں پر منتج ہوں تو ایسے موقع پر لازما سختی کرنی پڑتی ہے اس کے سوا کوئی چارہ نہیں ہے۔اس کی بہت سی مثالیں ہیں جو میرے سامنے ہیں کیونکہ میں نے جیسا کہ بتایا ہے مختلف وقتوں میں مختلف ممالک میں مختلف فتنے اٹھنے لگے اور اللہ تعالیٰ نے توفیق عطا فرمائی کہ بروقت ان کا صحیح تجزیہ کیا جائے ، ان کو وقت پر پکڑا جائے اور دبا دیا جائے ، سمجھا کر منتیں کر کے بھی لیکن خدا نے فضل فرمایا جماعت کے وقار کو قائم رکھتے ہوئے جس طرح پیش گئی ان فتنوں سے نمٹا گیا اور خدا کے فضل سے ایک آدھ کے سوا کوئی شخص ضائع نہیں ہوا۔جبکہ یہ خطرہ تھا کہ جماعتوں کی جماعتیں پھسل سکتی تھیں۔اب میں نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ ایسے معاملات کو ساری جماعت کے سامنے رکھوں گا کیونکہ ان باتوں پر پردہ پوشی جہاں تک ذاتیات کا تعلق ہے وہ تو جائز ہے اور مناسب بھی ہے لیکن جہاں تک مثالوں کا تعلق ہے میں سمجھتا ہوں ان باتوں سے متعلق مزید پردہ پوشی سے کام لینا جماعت کے لئے نقصان دہ ہو گا کیونکہ بہت سے لوگ آج عہدوں پر فائز نہیں ہیں کل عہدوں پر فائز ہوں گے۔بہت سے ہیں جو آج ایک غلطی نہیں کر رہے کل ایک غلطی کر سکتے ہیں اور ان بیچاروں کو پتا ہی نہیں کہ ان معاملات میں اس سے پہلے میں کیا اقدام کر چکا ہوں اور میں نے ان معاملات کو کس طرح سمجھا اور کیا کیا غلط فہمیاں تھیں فتنہ پیدا کرنے والوں کو جن کی غلط فہمیاں دور کی گئیں اور خدا کے فضل سے وہ مزید ٹھوکر سے بچ گئے اس لئے چند مثالیں آپ کے سامنے رکھوں گا بغیر نام کے چھوٹی چھوٹی باتوں سے کس طرح فتنے شروع ہوتے ہیں یہ مضمون آئندہ بھی شاید ایک دو خطبات میں اسی طرح جاری رہے۔اور یہ یہ تو تمہید ہے اس میں بھی کافی وقت لگ گیا ہے اس لئے آج تو مختصر 1 چند چھوٹی چھوٹی باتوں کا ذکر کروں گا۔سب سے پہلے میں چغلی یعنی غیبت کے متعلق آپ سے بات کرنا چاہتا ہوں جس کے متعلق قرآن کریم نے بہت ہی سخت الفاظ میں مومنوں کو متنبہ فرمایا ہے۔حالانکہ غیبت