خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 686
خطبات طاہر جلد ۱۰ 686 خطبه جمعه ۲۳ اگست ۱۹۹۱ء جہاں اس کی مالکیت اپنے جلال سے جلوہ گر ہو اور مجھے اختیار نہ دے کہ ان معاملات میں میں اپنے ذاتی رحم سے کام لیتے ہوئے کسی کو معاف کروں وہاں میں بے اختیار ہوں۔آنحضرت ﷺ کی بعض مثالیں ہمارے سامنے ہیں۔حد سے زیادہ یعنی حد سے زیادہ تو نہیں کیونکہ حد سے زیادہ جو چیز بڑھ جائے وہ خلق کے مقام سے آگے نکل جاتی ہے یا گر جاتی ہے۔آنحضرت اللہ بخشش کی آخری حدوں کو چھورہے تھے جس کے بعد بخشش کی کوئی حد نہیں ہے۔خدا کے بعد کبھی کوئی انسان انتارحم کرنے والا ، اتنا بخشنے والا دنیا میں نہ پیدا ہوا نہ آئندہ ہو گا جیسا کہ ہمارے آقا و مولیٰ حضرت اقدس محمد مصطفی ملے تھے مگر جہاں خدا تعالیٰ نے آپ کو نگران بنایا تھا، جہاں بعض اصولوں کی حفاظت کا سوال تھا وہاں بعض دفعہ آپ نے ناراضگی کا ایسا اظہار کیا کہ کسی صورت معاف کرنے پر آمادہ نہیں ہوئے جب تک خدا نے الہاما آپ کو اس بات پر پابند نہیں فرمایا کہ اس معاملے میں میں تمہیں اجازت دیتا ہوں کہ معاف کر دو، درگزر سے کام لو۔مثلاً وہ تین صحابہ جو پیچھے چھوڑے گئے تھے جو جہاد میں شریک نہیں ہو سکے تھے ان کے متعلق آتا ہے کہ جب آنحضرت ﷺ ان سے ناراض ہوئے تو ان کی گریہ وزاری، ان کی ایسی حالت کہ گویا وہ اس غم سے ہلاک ہو جائیں گے آپ کے دل پر اثر نہیں کر سکتی تھی۔آپ نے معاف نہیں فرمایا جب تک خدا تعالیٰ نے معاف نہیں فرما دیا اور اس دوران آپ خود بھی غم میں مبتلا تھے۔یہ وہ مضمون ہے جو بعض لوگ اپنی نادانی میں نہیں سمجھتے۔بعض دفعہ ایک امیر، بعض دفعہ ایک خلیفہ کسی شخص کے خلاف ایک سخت کارروائی کرتا ہے مگر دل کی سختی کی وجہ سے نہیں بلکہ اپنی مجبوری کی وجہ سے اور اس کا دل بعض دفعہ اس شخص سے بھی زیادہ سزا پاتا ہے جس کو وہ سزا دے رہا ہے۔چنانچہ ان تین صحابہ کے متعلق جن کے متعلق قرآن کریم میں ذکر آیا ہے روایت ہے وہ خود بیان کرتے ہیں کہ اس زمانہ میں جبکہ ہم پر ہماری زندگی ، ہمارا جینا، ہمارا کھانا پینا سب کچھ حرام ہو چکا تھا ایک ہی چیز تھی جو ہمیں زندہ رکھے ہوئے تھی وہ یہ تھی کہ کبھی کبھی اچانک آنحضرت ﷺ کو ہم اپنی طرف اس طرح دیکھتے ہوئے ، اچکتی ہوئی نظر سے دیکھتے ہوئے پکڑ لیتے تھے کہ جو رسول اللہ ﷺ کو خیال نہیں تھا کہ ہم ان کو دیکھ لیں گے۔اس نظر میں شفقت تھی ، اس نظر صلى میں رحم تھا۔یہ وہ مختصری غذا تھی جو کبھی کبھی ان کو ملتی رہتی تھی جو ان کی زندگی کا باعث بنی ہوئی تھی۔تو یہ بحث نظام جماعت سے نہیں اٹھائی جائے گی کہ یہ معاملہ بخشش سے تعلق رکھتا ہے،