خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 675 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 675

خطبات طاہر جلد ۱۰ 675 خطبہ جمعہ ۶اراگست ۱۹۹۱ء وہ سنا ہے کپڑے بہت اچھے لے کر آئی ہیں تو میں کپڑے خرید نے آئی ہوں۔اب اس بے چاری مخلص عورت کو اپنی تجارت کا نوکر بنادینا یہ کہاں کی شرافت ہے۔اس لئے سارے یو کے (U۔K) کی لجنہ کے لئے اور باقی جگہ جہاں بھی دین کی خاطر جلسے ہوتے ہیں میں اعلان کرتا ہوں کہ ان جلسوں پر اگر کوئی اس قسم کی تجارتی مال لے کر دین کے نام پر سفر کرے اور دنیا کمانے کی نیت ہو جو اس طرح کھل کر ظاہر ہو جائے تو ان کے ساتھ ہر گز کوئی تعاون نہیں کرنا۔کوئی احمدی عورت ایسی عورتوں سے کپڑے نہ خریدے۔تجارت ہر ایک کا حق ہے ضرورت ہو یا نہ ہو کسی کو یہ کہنا ہمارا کام نہیں ہے کہ تم بہت امیر ہو، خدا نے تمہیں اتنا کچھ دیا ہے خدا کے واسطے ان چھوٹی چھوٹی حرکتوں سے باز آؤ۔ہم نہیں کسی کو کہہ سکتے مگر جہاں دین کو Exploit کیا جائے گادین کے نام پر بعض لوگوں کی شرافت کا استحصال کیا جائے گا تو وہاں ہمارا فرض ہے کہ ان کوششوں کو ہم رد کر دیں اور نا مراد کر دیں اس لئے تمام وہ جماعتیں جہاں میں جاتا ہوں جہاں جلسے ہوتے ہیں وہاں اگر اس قسم کے تاجر پہنچیں خواہ وہ مرد ہوں یا عورتیں ہوں تو ان کی ان کوششوں کو نا کام کریں، ان کو کہہ دیں کہ ہم نے ہر گز تم سے تعاون نہیں کرنا اور یہی ان کے ساتھ نیکی کرنا ہے تا کہ اگر وہ اگلی دفعہ آئیں تو صاف نیت سے آئیں اور اس ے کا ثواب تو حاصل کریں۔پھر ایک لمبے عرصے تک انگلستان کی جماعت پر بوجھ بن جانا جبکہ نہ کوئی رشتے داریاں ہوں ، نہ کوئی لین دین کے پرانے خاندانی تعلقات ہوں یہ بھی ظلم کی بات ہے۔وہاں سے جس نیت کے ساتھ آتے ہیں وہ نیت پوری ہوئی اب اپنے گھروں کو جائیں اور اگر سیر و تفریح کرنی ہے تو پھر اپنے خرچ پر ٹھہریں۔اگر توفیق نہیں ہے تو واپس چلے جائیں۔رشتے داریاں ہیں تو ٹھیک ہیر شتے داروں کے ساتھ جیسے جیسے ملاحظے ہوا کرتے ہیں فریقین آپس میں ایک دوسرے کے معاملات کو سمجھتے ہیں ان میں جماعت کو کسی قسم کے دخل کی ضرورت نہیں ہے۔کوئی شوق سے اپنے کام آئے ، اپنے ذاتی اغراض کی خاطر اپنے کسی بے تکلف رشتے دار کے گھر ٹھہر جائے لیکن نظر ر کھے کہ اس کو کوئی تکلیف نہ پہنچ رہی ہو۔کہیں حیاء کی وجہ سے وہ اپنی تکلیف کا اظہار نہ کر رہا ہو۔یہ وہ چیز ہے جو میرے موضوع گفتگو سے مستقلی ہے لیکن جماعتی تعلقات ہوں، کوئی خاندانی رشتے نہ ہوں تو وہاں کسی حیاء دار کے گھر آکر ٹھہر جانا جس کو یہ کہتے ہوئے بھی شرم آتی ہو کہ میاں اتنی دیر ہوگئی ہے اب آپ واپسی کا سامان کریں۔وہ