خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء)

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 663 of 1098

خطبات طاہر (جلد 10۔ 1991ء) — Page 663

خطبات طاہر جلد ۱۰ 663 خطبه جمعه ۹ /اگست ۱۹۹۱ء اسماعیل کو ایک بہت بڑا مرتبہ عطا ہوا ہے، ان کی نسل سے آئندہ زمانے کے سارے انسانوں کی نجات وابستہ ہے اور یہ وہ ماں نہیں ہے جس کے پاؤں کے نیچے جنت ہے۔پس اگر وہ فیصلہ نہ کرتے تو گویا دنیا کے لئے جہنم کا فیصلہ کر رہے ہوتے لیکن آپ نے یہ فیصلہ کیا کہ اس بیٹے کو ویسی بیوی ملنی چاہئے جو آئندہ نسلوں کے لئے وہ ماں بنے جن کے پاؤں کے نیچے سے جنت کے چشمے پھوٹ پڑیں چنانچہ آنحضرت کی صورت میں جو واقعہ رونما ہوا اور آپ کے فیض سے دنیا پر جنت کے جو سیلاب آگئے یہاں تک کہ قلزم بھر گئے ، جولق دوق صحرا تھے وہ روحانی لحاظ سے سمندروں میں تبدیل ہو گئے تو دراصل اس فیصلے کو اس فیض میں ایک دخل حاصل ہے۔کتنا گہرا فیصلہ تھا ایک چھوٹا سا پیغام تھا کہ چوکھٹ بدل دو۔تو جو خاوند پر نظر رکھتے ہیں جو خاوند یہ بھی جانتے ہیں کہ ان ہی آیات میں جو نکاح کے موقعہ پر تلاوت کی جاتی ہیں ایک یہ بھی ہے کہ وَلْتَنْظُرْ نَفْسٌ مَّا قَدَّمَتْ لِغَدٍ (سورة الحشر : ۱۹) خبردار! جو کچھ تم آگے بھیجو گے اس کے بارہ میں جوابدہ ہو گے۔اگر کوئی شخص یہ سوچے کہ اگر میں نے اس آیت کے مضمون کو بھلا دیا اور اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے آگے جہنم بھیج رہا ہوں تو میں خدا کو کیسے جواب دوں گا؟ تو یقیناً حضرت ابراہیم علیہ الصلوۃ والسلام کے فیصلے کی اہمیت اس پر خوب روشن ہو کر ابھرے گی۔ایسے موقع پر اگر وہ کامل سنجیدگی کے ساتھ یہ فیصلہ کرتا ہے کہ ایک بے دین بیوی کو اپنے گھر رکھ کر اپنی اولادوں کے لئے میں جہنم پیدا نہیں کر سکتا اور اس کو صاف کہنے پر تیار ہو جاتا ہے اور یہ فیصلہ کر لیتا ہے کہ جو کچھ مجھ پر گزرے گی میں اب بے دینی برداشت نہیں کروں گا تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ اکثر بیویوں کی اصلاح بھی ہو جائے گی کیونکہ ایسی ہی بیویاں شوخیاں دکھاتی ہیں جو یہ سمجھتیں ہیں کہ خاوند کمزور ہے۔وہ مجھتی ہیں کہ خاوند دین کی باتیں تو کر رہا ہے مگر دین کو اتنی اہمیت نہیں دیتا کہ مجھ سے جدا ہو جائے اور اپنے لئے دوبارہ تنہائی کی ایک زندگی اختیار کرلے لیکن عزم کی بات ہے۔اہمیت کی بات ہے۔اگر خاوند کی نیت جیسا کہ اُس نے لکھا واقعہ دین کی تھی تو اتنے عرصہ سے وہ دیکھ رہا ہے کہ دین نصیب نہیں ہورہا بلکہ دین کے برعکس صورت حال ہے تو پھر وہ خود قصور وار ہے۔اس کا مطلب ہے کہ اس کی نیت میں اگر چہ دین کا ایک خیال شامل تو تھا مگر وہ محض ایک سرسری خیال تھا۔اُسے بنیادی حیثیت حاصل نہیں تھی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم نے فرمایا ہے کہ انما الاعمال بالنیات یہاں نیت کو بنیاد کے طور پر پیش فرمایا ہے، ایک سرسری خیال